بین الاقوامیاہم خبریں

سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف: ایران میں استحکام خطے اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، سفیر عاصم افتخار احمد

سلامتی کونسل کے مباحث میں سول سوسائٹی کی بریفنگز کے لیے معروضیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیرجانبداری انتہائی اہم ہے، تاکہ کونسل کے وقار اور اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے

مدثر احمد-امریکا،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں “مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال” کے ایجنڈے کے تحت ایران سے متعلق بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور علاقائی امن و استحکام کو لاحق نئے خطرات پر شدید تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اپنے بیان کے آغاز میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کونسل کے صدر کا شکریہ ادا کیا اور سیکرٹریٹ کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مارتھا پوبی کی جامع بریفنگ کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلامتی کونسل کے مباحث میں سول سوسائٹی کی بریفنگز کے لیے معروضیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیرجانبداری انتہائی اہم ہے، تاکہ کونسل کے وقار اور اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران اور پورے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں علاقائی امن و استحکام کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے ایران کو پاکستان کا قریبی پڑوسی اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی، دوستانہ، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان ایران میں حالات کے جلد معمول پر آنے کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن اور مستحکم ایران نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے ایرانی عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بھرپور ثقافت، قدیم تہذیب اور طویل تاریخ نے اسے ہر قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران موجودہ مشکلات پر قابو پا کر ایک بار پھر امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا۔
اپنے بیان میں انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں اور مقاصد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصول ناقابلِ تسخیر اور مقدس ہیں۔ ان کے مطابق، اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ تمام تنازعات کو پرامن ذرائع اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل دشمنی، طاقت کا استعمال اور یکطرفہ اقدامات نہ صرف بنیادی مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں بلکہ بے پناہ انسانی تکالیف کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان کے مطابق دھمکی یا طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید بگاڑ دے گا اور علاقائی و بین الاقوامی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچائے گا۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ذمہ داری سے کام لیں، بین الاقوامی قانون کی حدود میں رہیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو خطے یا دنیا کے امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ متنازعہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمہ ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور پاکستان نے ہمیشہ تناؤ کا شکار خطے میں تصادم سے بچنے اور بات چیت کو ترجیح دینے کی حمایت کی ہے۔
بیان کے اختتام پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران میں حالات جلد کسی بھی اندرونی انتشار یا بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر معمول پر آئیں گے اور تمام متعلقہ فریق باہمی احترام، افہام و تفہیم اور اعتماد کی فضا میں اپنے اختلافات کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button