پاکستاناہم خبریں

اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی نائب صدر سے رابطہ، ایران کی صورتحال پر مذاکرات اور سفارت کاری پر زور

یورپی ممالک ان مظاہروں کے دوران حکومتی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ خطے میں عدم استحکام کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ایجنسیا ں:
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران میں جاری کشیدگی اور بدامنی کے تناظر میں مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ یہ بات انہوں نے یورپی یونین کی نائب صدر اور خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ رابطہ جمعے کے روز ہوا، جس میں ایران کی تازہ صورتحال، خطے کی مجموعی سلامتی اور پاکستان و یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے پُرتشدد شکل اختیار کر لی ہے اور ملک گیر مظاہروں کے باعث داخلی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ یورپی ممالک ان مظاہروں کے دوران حکومتی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ خطے میں عدم استحکام کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے بات چیت اور رابطوں کے تسلسل کی اہمیت کو دہرایا اور کہا کہ موجودہ حالات میں غلط فہمیوں سے بچنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی روابط انتہائی ضروری ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور یورپی یونین آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہیں گے اور خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
گفتگو کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، تجارت، ترقیاتی شراکت داری اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپی حکومتوں نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ یہ مظاہرے ابتدا میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر جمعے کے روز یورپی یونین کے ہوابازی کے ادارے نے ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران میں موجودہ حالات کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان یہ رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button