پاکستاناہم خبریں

مقبوضہ کشمیر میں مساجد کی مبینہ پروفائلنگ پر پاکستان کی سخت مذمت

ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کو دیوار سے لگانے اور ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مبینہ پروفائلنگ کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادیوں پر کھلا حملہ اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد مقبوضہ علاقے میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اور ان کے مذہبی معاملات میں غیرقانونی مداخلت کرنا ہے۔
ہفتے کے روز دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا کہ کشمیریوں کے مذہبی امور میں اس نوعیت کی مداخلت عقیدے کی آزادی اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ بیان کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کو دیوار سے لگانے اور ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اطلاعات کے مطابق مساجد سے وابستہ افراد، علماء کرام اور انتظامی کمیٹیوں کے اراکین کی ذاتی معلومات، تصاویر اور ان کی مسلکی وابستگیوں سے متعلق ڈیٹا زبردستی اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ عمل محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ منظم ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس سے مذہبی شخصیات اور عبادت گزاروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کا اصل مقصد عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنا، مذہبی اجتماعات کو محدود کرنا اور لوگوں کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ایسی پالیسیاں نہ صرف مذہبی آزادیوں کو سلب کرتی ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی یہ کارروائیاں انڈیا کی موجودہ حکومت کے ہندوتوا نظریے اور مبینہ ’’ادارہ جاتی اسلامو فوبیا‘‘ کی عکاس ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کو خاص طور پر نشانہ بنا کر امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور مذہبی رواداری کے عالمی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو کسی بھی خوف، جبر یا امتیاز کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مذہبی آزادی کا تحفظ ریاستوں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے انحراف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر ان کے خلاف ہونے والے مذہبی ظلم و ستم، عدم برداشت اور امتیازی رویوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button