پاکستاناہم خبریں

افغان طالبان کی حکمرانی کے منفی اثرات، پاکستان سب سے زیادہ متاثر ملک قرار،بین الاقوامی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کی چشم کشا رپورٹ

افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، داعش اور داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہ بدستور سرگرم رہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز، بین الاقوامی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے ساتھ
بین الاقوامی امور کے معتبر جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی دوبارہ حکمرانی کے بعد اس کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغان طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام، امن اور تعاون کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں اور نتائج اس کے بالکل برعکس سامنے آئے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے طالبان حکومت کے قیام کے بعد نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی بھرپور تعاون کیا۔ عالمی برادری میں افغانستان کے لیے نرم مؤقف اختیار کرنے، امداد کی حمایت اور طالبان حکومت کو تنہا نہ چھوڑنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، مگر اس کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال بتدریج خراب ہوتی چلی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، داعش اور داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہ بدستور سرگرم رہے، جنہوں نے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال جاری رکھا۔
دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرحد پار حملوں میں سب سے زیادہ ملوث گروہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے، جس کے دہشت گرد افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کرتے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت کی شرح 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاست پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق بھارت نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی بحال کر کے افغان طالبان قیادت سے روابط میں تیزی لائی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک نئے سکیورٹی چیلنج کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں اور یہ صورتحال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دی ڈپلومیٹ نے یاد دلایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات برداشت کر چکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں ابتدا ہی سے تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارتکاری کو ترجیح دی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات، مذہبی قیادت کے ذریعے ثالثی اور علاقائی شراکت داروں کی مدد سے مسئلے کے حل کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ایک موقع پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سرحدی علاقوں سے منتقل کیا جائے گا، تاہم دی ڈپلومیٹ کے مطابق وعدوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
صورتحال کے بگڑنے پر پاکستان کو ستمبر اور اکتوبر 2025 میں افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا، تاہم اس کے باوجود پاکستان نے سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور قطر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کے عمل میں شامل اطلاع رہے، جس سے پاکستان کی سفارتی لچک اور مسئلے کے پرامن حل کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق مجموعی طور پر افغان طالبان کی حکمرانی کے بعد خطے میں امن کے بجائے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، اور اس کا سب سے بڑا بوجھ پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اگر افغان طالبان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات نہ کیے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ مسلسل عدم استحکام کا شکار رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button