
‘بھارت میں سکیورٹی اور آزادی کے درمیان توازن ختم ہو چکا‘
اسی قانون کے تحت بھارتی سپریم کورٹ کے کچھ حالیہ فیصلوں نے دہشت گردی کی تعریف اور سکیورٹی قوانین کے استعمال کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
مرلی کرشنن
اسی قانون کے تحت بھارتی سپریم کورٹ کے کچھ حالیہ فیصلوں نے دہشت گردی کی تعریف اور سکیورٹی قوانین کے استعمال کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
اسی ماہ بھارتی سپریم کورٹ نے سن 2020 میں دہلی فسادات کیس میں ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانتیں مسترد کر دیں، جبکہ اسی کیس میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے والے پانچ دیگر افراد کو ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا۔
ان دونوں ملزمان پر نئی دہلی میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔ ان فسادات کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ عمر خالد اور شرجیل امام دونوں بغیر مقدمے کے پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔
بھارتی کمیونسٹ پارٹی کی سینئر خاتون رہنما برندا کرات نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”سن 2020 کے فسادات کے مقدمے میں 18 ملزمان میں سے 16 مسلمان ہیں، جبکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ رہنما، جنہوں نے تشدد سے پہلے نفرت انگیز تقاریر کی تھیں، ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ خالد اور امام فسادات کے وقت دہلی میں موجود ہی نہیں تھے۔‘‘
کرات نے مزید کہا کہ امام پہلے ہی حراست میں تھے جبکہ خالد کہیں اور تھے لیکن ان کی عدم موجودگی کو ”غلط انداز‘‘ میں اس سازش کا ثبوت قرار دیا گیا۔

انہوں نے استدلال کرتے ہوئے کہا، ”عدالت نے دہشت گردی کی تعریف کو خطرناک حد تک وسعت دے دی ہے۔ پُرامن طور پر سڑکیں بند کرنے کو بھی دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے حکومت ہڑتال کرنے والوں، قبائلی مظاہرین اور کچی آبادیوں کے مکینوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔‘‘
اس متنازعہ قانون نے بے گناہی کا اصول الٹ دیا
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2019 سے 2023ء کے درمیان یو اے پی اے کے تحت 10,440 افراد گرفتار ہوئے لیکن صرف 335 افراد کو سزا ہوئی، یعنی سزا کی شرح محض 3.2 فیصد ہے۔ زیادہ تر افراد اب بھی جیل میں ہیں اور طویل عدالتی کارروائی مقید افراد کے لیے بذات خود ایک اضافی سزا بن چکی ہے۔
یو اے پی اے سے پہلے بھی بھارت میں کئی اینٹی ٹیررازم قوانین نافذ کیے گئے، جن میں سن 2002 سے 2004ء تک نافذ رہنے والا دہشت گردی کی روک تھام کا قانون (POTA) بھی تھا۔ وسیع پیمانے پرغلط استعمال کے باعث اس قانون کو ختم کر دیا گیا مگر بعد میں یو اے پی اے کو دہشت گردی کے خلاف مرکزی قانون بنا کر 2008ء اور سن 2019 میں مزید سخت کیا گیا۔
یو اے پی اے کو خاص طور پر سخت بنانے والی شق یہ ہے کہ اس کے تحت عدالتی اصول ”جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم بے گناہ ہے‘‘ عملاً الٹ دیا گیا۔ اس لیے اگر ابتدائی طور پر الزامات درست دکھائی دیں تو ضمانت مسترد کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مدن لوکور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”عملاً ملزم کو ضمانت کے مرحلے پر ہی استغاثہ کا کیس غلط ثابت کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یو اے پی اے اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت انصاف حاصل کرنا ایک اذیت ناک عمل بن چکا ہے۔
مدن لوکور کے بقول، ”ان قوانین میں ضمانت کے لیے ثبوت کی ذمہ داری الٹ دی گئی ہے۔ اب اصول یہ ہے کہ بظاہر مجرم قرار دیے جانے کے بعد ہی بے گناہی ثابت کرو۔‘‘
دہشت گردی کا لیبل لگ گیا تو واپسی کا راستہ ختم
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ اور انسانی حقوق کے کارکن آکار پٹیل کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے مسلسل یو اے پی اے کی مبہم شقوں اور انسانی حقوق کے جائز کام کو جرم بنانے پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”منتخب پراسیکیوشن عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد ختم کرتی ہے، ریاستی اہلکاروں کے خلاف احتساب کا راستہ بند کرتی ہے اور اظہارِ رائے کو جرم بنا دیتی ہے۔‘‘
وکیل ربیکا جان کے مطابق ایک بار اگر ریاست آپ کو دہشت گرد قرار دے دے تو اپنی زندگی اور حقوق واپس حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، ”وہ لیبل ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا ہے اور اس کے خلاف لڑنے کے لیے کوئی ادارہ جاتی تحفظ نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ قانون کمزور طبقات کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جبکہ طاقتور افراد بغیر کسی انجام کے خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔
یو اے پی اے بھارت میں واحد متنازعہ قانون نہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے کئی دیگر قوانین بھی ہیں۔ ان میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) بھی ہے، جس میں استغاثہ کے پاس یہ حق ہے کہ وہ کسی کو بغیر مقدمے کے 12 ماہ تک حراست رکھ سکے۔
اسی طرح پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) بھی ہے، جس کے تحت بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کسی ملزم کو بغیر مقدمہ چلائے قید میں رکھا جا سکتا ہے۔
سن 2019 میں تین سابق وزرائے اعلیٰ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح صحافی سجاد گل 20 ماہ تک نظر بند رہے جبکہ لداخ میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک تاحال این ایس اے کے تحت حراست میں ہیں۔
میڈیا اور کارکنوں کے خلاف منی لانڈرنگ قانون
ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ پی ایم ایل اے اپوزیشن سیاستدانوں، صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
نیوزکلک سے وابستہ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر اور صحافی صدیق کپن ان قوانین کے تحت برسوں جیل میں رہے۔
’سکیورٹی اور آزادی کا توازن ختم ہو چکا ہے‘
ایک کارکن کو ایک پُرامن احتجاج یا تنقیدی رپورٹ کی بنیاد پر مختلف قوانین کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں یو اے پی اے کے تحت مبینہ دہشت گردی کے الزامات، امن عامہ کو خطرے کے نام پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بندی اور منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت تحقیقات۔
جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک عہدیدار سے ان سکیورٹی قوانین کے اطلاق پر اٹھنے والے خدشات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور ”ملک کا قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔‘‘ انہوں نے کہا، ”ہمارا عدالتی نظام اسی طرح کام کرتا ہے۔‘‘
سینئر وکیل کپل سبل کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کو حفاظتی قوانین چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا قوم کے تحفظ کے نام پر بنائے گئے قوانین ملک کی بنیادی آزادیوں کو کھوکھلا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ”سکیورٹی اور آزادی کے درمیان توازن ختم ہو چکا ہے۔‘‘



