پاکستاناہم خبریں

پاکستان کو غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی امریکی دعوت، عالمی سطح پر بحث و تنقید کا آغاز

تاحال بورڈ کے ہر رکن کی ذمہ داریوں کی واضح تفصیل فراہم نہیں کی اور اب تک اعلان کردہ فہرست میں کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،دفتر خارجہ کے ساتھ
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو غزہ کے لیے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔ اتوار کو اسلام آباد میں جاری کیے گئے ایک بیان میں دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دعوت غزہ میں امن و استحکام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، ’’پاکستان کے وزیراعظم کو امریکہ کے صدر کی جانب سے غزہ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ پاکستان مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عالمی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز غزہ کے لیے مجوزہ بورڈ کے چند ارکان کے ناموں کا اعلان کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ اس اسکیم کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ اکتوبر کے بعد نافذ ہونے والی جنگ بندی کے دوران غزہ کی عبوری حکومت اور انتظامی ڈھانچے کی نگرانی کرے گا۔
بورڈ آف پیس: اہم شخصیات کی شمولیت
اب تک سامنے آنے والے ناموں میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے گزشتہ برس اکتوبر میں منظرعام پر آنے والے منصوبے کے مطابق اس بورڈ کے سربراہ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔
اس منصوبے کے تحت اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس نے ایک ایسے فریم ورک پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق عبوری دورِ حکومت میں غزہ میں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کام کرے گی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ کرے گا۔
فلسطینی نمائندگی پر سوالات
تاہم اس مجوزہ بورڈ پر فوری طور پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے تاحال بورڈ کے ہر رکن کی ذمہ داریوں کی واضح تفصیل فراہم نہیں کی اور اب تک اعلان کردہ فہرست میں کوئی فلسطینی نمائندہ شامل نہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں بورڈ کے مزید ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔
عالمی تنقید اور نوآبادیاتی خدشات
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں، ماہرین اور دانشوروں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی غیرملکی علاقے کی حکمرانی کی نگرانی کے لیے امریکی صدر کی سربراہی میں بورڈ کی تشکیل نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے مشابہت رکھتی ہے۔ خاص طور پر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی شمولیت کو بھی ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے، جہاں ناقدین عراق جنگ میں ان کے کردار اور مشرقِ وسطیٰ میں برطانوی سامراجی تاریخ کا حوالہ دے رہے ہیں۔
غزہ ایگزیکٹیو بورڈ کی علیحدہ تشکیل
دوسری جانب امریکہ نے غزہ میں ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کی عملی معاونت کے لیے ایک علیحدہ 11 رکنی ’غزہ ایگزیکٹیو بورڈ‘ بھی تشکیل دیا ہے۔ اس بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، اقوام متحدہ کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے امن کوآرڈینیٹر سگریڈ کاگ، متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی اور اسرائیلی ارب پتی کاروباری شخصیت یاکر گابے شامل ہیں۔
اسرائیلی تحفظات
اس پیش رفت پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کی تشکیل اسرائیل کی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں بلکہ اس سے متصادم ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ایگزیکٹیو بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی موجودگی اسرائیلی اعتراضات کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل ترکیہ کے کردار پر پہلے ہی خدشات ظاہر کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا ممکنہ کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وزیراعظم شہباز شریف اس بورڈ میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کو غزہ اور وسیع تر مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے عالمی سفارتی سطح پر ایک اہم کردار مل سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر حمایت کرتا رہا ہے، اور اس دعوت کو اسلام آباد کی اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے اس بورڈ میں شمولیت ایک نازک سفارتی توازن کا تقاضا کرے گی، جہاں ایک طرف انسانی حقوق، فلسطینی خودمختاری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہے، تو دوسری جانب بڑی عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات بھی شامل ہیں۔
غزہ کے مستقبل، بین الاقوامی نگرانی اور علاقائی سیاست کے تناظر میں ’بورڈ آف پیس‘ ایک ایسا منصوبہ بنتا جا رہا ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button