پاکستانتازہ ترین

پاکستانی خواتین کے لیے زیادہ روزگار: شہر بہتر یا دیہات؟

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن فری لانسنگ نے شہری خواتین کے لیے گھروں سے کام کرنے کے دروازے بھی کھول دیے ہیں

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان میں خواتین کی نصف سے زائد آبادی ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، مگر عملی طور پر ان کی بڑی تعداد اب بھی روزگار کے مواقع سے محروم ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال مسلسل زیرِ بحث ہے: کیا پاکستانی خواتین کے لیے زیادہ اور بہتر روزگار کے مواقع شہروں میں موجود ہیں یا دیہی علاقوں میں؟ ماہرین، سماجی کارکنوں اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سوال کا جواب سادہ نہیں بلکہ کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔


شہری علاقوں میں خواتین کے روزگار کے مواقع

پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع نسبتاً زیادہ اور متنوع سمجھے جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں تعلیم، صحت، میڈیا، بینکنگ، آئی ٹی، فیشن، فیکٹریوں، کارپوریٹ سیکٹر اور نجی اداروں میں خواتین کی شمولیت واضح طور پر نظر آتی ہے۔

خواتین یہاں بطور ڈاکٹر، نرس، استاد، بینکر، صحافی، انجینئر، سافٹ ویئر ڈویلپر، فری لانسر اور کاروباری شخصیات کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خاص طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن فری لانسنگ نے شہری خواتین کے لیے گھروں سے کام کرنے کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شہروں میں خواتین کو بہتر تنخواہ، نسبتاً محفوظ ماحول، قانونی تحفظ، ترقی کے مواقع اور سماجی قبولیت زیادہ میسر ہوتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ کے مسائل، ہراسمنٹ، کام اور گھریلو ذمہ داریوں میں توازن اور مہنگائی شامل ہیں۔


دیہی علاقوں میں خواتین کا کردار اور روزگار

دوسری جانب دیہی پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زراعت، مویشی پالنے، کھیتی باڑی، دستکاری، سلائی کڑھائی اور گھریلو صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اگرچہ یہ کام ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں اکثر باقاعدہ روزگار کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

دیہی خواتین کی محنت زیادہ تر غیر رسمی معیشت کا حصہ ہوتی ہے، جہاں نہ انہیں مناسب اجرت ملتی ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ، طبی سہولت یا قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ بہت سی خواتین خاندان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتی ہیں مگر ان کے نام پر کوئی آمدن درج نہیں ہوتی۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دیہی خواتین کو جدید زرعی تربیت، مائیکرو فنانس، مارکیٹ تک رسائی اور ہنرمندی کے مواقع فراہم کیے جائیں تو دیہات میں خواتین کے لیے روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔


تعلیم: فیصلہ کن عنصر

تعلیم کو خواتین کے روزگار کے سوال میں سب سے اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں لڑکیوں کی شرحِ تعلیم دیہی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث انہیں بہتر اور باوقار نوکریاں حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، غربت، کم عمری کی شادی اور سماجی پابندیاں لڑکیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے روزگار کے مواقع بھی محدود ہو جاتے ہیں۔


ماہرین کیا کہتے ہیں؟

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الوقت خواتین کے لیے زیادہ باقاعدہ اور تنخواہ دار نوکریاں شہروں میں موجود ہیں، تاہم دیہی علاقوں میں روزگار کی پوشیدہ صلاحیت بہت زیادہ ہے، جسے درست پالیسیوں کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور نجی شعبہ دیہی خواتین کے لیے:

  • ہنر مندی کے مراکز

  • زرعی ویلیو چین میں شمولیت

  • آن لائن مارکیٹس

  • اور ڈیجیٹل تعلیم

فراہم کرے تو دیہات بھی خواتین کے لیے مضبوط معاشی مراکز بن سکتے ہیں۔


حکومتی اقدامات اور مستقبل کا منظرنامہ

حالیہ برسوں میں حکومت نے خواتین کے لیے احساس پروگرام، بینظیر انکم سپورٹ، کامیاب جوان اور ویمن ایمپاورمنٹ اسکیمز جیسے منصوبے متعارف کرائے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق ان اقدامات کو مزید شفاف، پائیدار اور دیہی علاقوں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کا تصور، آن لائن فری لانسنگ اور ای کامرس دیہی و شہری فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ انٹرنیٹ، تربیت اور سہولتیں یکساں فراہم کی جائیں۔


نتیجہ: شہر یا دیہات؟

ماہرین کے اتفاقِ رائے کے مطابق اس وقت پاکستانی خواتین کے لیے زیادہ نمایاں اور مستحکم روزگار کے مواقع شہروں میں موجود ہیں، مگر مستقبل دیہی خواتین کو نظرانداز کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اصل حل شہر اور دیہات کے درمیان خلیج کو کم کرنا، تعلیم اور ہنر کو فروغ دینا اور خواتین کو معاشی خودمختاری دینا ہے۔

کیونکہ جب پاکستانی خواتین بااختیار ہوں گی، تب ہی پاکستان مضبوط معیشت اور مستحکم سماج کی جانب بڑھ سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button