بین الاقوامیاہم خبریں

آٹھ یورپی ممالک کا ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی

ٹیرفس کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو متاثر کریں گی اور وہ یورپی امریکی روابط میں خطرناک تنزلی کا باعث بھی بنیں گی

ڈنمارک کے ملکیتی جزیرے گرین لینڈ پر امریکہ کے کنٹرول سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد آٹھ یورپی اقوام نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک مشترکہ بیان میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اسکینڈے نیویا کے ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان آٹھ ممالک نے، جو سب کے سب مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مکمل رکن بھی ہیں، اتوار 18 جنوری کے روز اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا، ’’نیٹو کے رکن ممالک کے طور پر ہم آرکٹک کے خطے کی سکیورٹی کو مضبوط تر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بحر اوقیانوس کے آر پار کے مفادات بھی مشترک ہیں۔ ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام اور ان کی حکومتوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

یہ ممالک ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، فرانس، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ ہیں۔ ان یورپی ممالک نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’’(امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دی جانے والی) ٹیرفس کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو متاثر کریں گی اور وہ یورپی امریکی روابط میں خطرناک تنزلی کا باعث بھی بنیں گی۔‘‘

امریکہ کے قریبی اتحادی ممالک کی جانب سے غیر معمولی طور پر سخت مشترکہ بیان میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ نے کہا کہ ڈینش فوجی مشق ’آرکٹک اینڈیورنس‘ کے لیے گرین لینڈ بھیجے گئے فوجی دستے ’کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

اسی دوران ناروے میں اوسلو سے موصولہ دیگر رپورٹوں میں ملکی وزیر اعظم جوناس گاہر سٹؤرے نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی اپنی ذاتی خواہش کے پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد یورپی ممالک کو جن اضافی ٹیرفس کی دھمکیاں دی ہیں، وہ ایکی نئی تجارتی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی اور اسی لیے ایسی دھمکیوں کے سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیا جانا چاہیے۔

ناروے کے وزیر اعظم کے الفاظ میں، ’’میری رائے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے، تاکہ کوئی ایسی تجارتی جنگ نہ شروع ہو جائے، جو بعد میں قابو سے باہر ہو جائے۔ میرے خیال میں ایسا ہونے سے فائدہ کسی کو بھی نہیں ہو گا۔‘‘

اسی یورپی امریکی کشیدگی کے تناظر میں ڈنمارک کی خاتون وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی اتوار کے روز خبردار کرتے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرفس سے متعلق دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ایسے کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

میٹے فریڈرکسن نے ڈنمارک کی ایک نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یورپ ’’کسی بھی صورت بلیک میل نہیں‘‘ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا، ’’وہ جو تنازعے کی تلاش میں ہیں، وہ ہم تو نہیں ہیں۔‘‘

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات کا فائدہ چین اور روس کو ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’اگر گرین لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہے تو اس پر نیٹو کے اندر بات ہو سکتی ہے۔ ٹیرف یورپ اور امریکہ دونوں کو غریب کریں گے اور ہماری مشترکہ خوشحالی کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

ڈینش وزیر اعظم نے کہا، ’’آرکٹک کا جزیرہ گرین لینڈ ڈینش بادشاہت کا حصہ ہے، اور ڈنمارک کے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے گرین لینڈ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو ہی کا حصہ ہے۔

اسی دوران آئرلینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق مذاکرات شروع کرنے کے لیے اپنی طرف سے دباؤ کے ذریعے کے طور پر امریکی صدر ٹرمپ نے متعدد یورپی ممالک کو یکم فروری سے جو 10 فیصد اضافی ٹیرف لگا دینے کی دھمکی دی ہے، وہ ’’قطعی ناقابل قبول‘‘ ہے۔

اٹلی کی دائیں بازو کی وزیر اعظم جورجیا میلونی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، نے بھی اس فیصلے کو ’غلطی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں یورپی فوجی تعیناتی امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ ’دیگر عناصر‘ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا، ’کوئی دھمکی ہمیں متاثر نہیں کر سکتی، چاہے وہ یوکرین ہو، گرین لینڈ ہو یا دنیا کا کوئی اور حصہ۔ اس تناظر میں ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔‘

برطانیہ میں بھی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ اصلاح یو کے پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا، ’ہم ہمیشہ امریکی حکومت سے متفق نہیں ہوتے، اور اس معاملے میں تو بالکل نہیں۔ یہ ٹیرف ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔‘

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ٹیرف کے اعلان کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے کو براہ راست امریکی انتظامیہ کے سامنے اٹھائے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button