یورپتازہ ترین

فرانس میں بھی نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ممکن

آسٹریلیا سمیت دنیا کے چند ممالک میں تو نوجوانون کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی ملک گیر پابندیاں یا تو نافذ ہو چکی ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔

اے ایف پی کے ساتھ

فرانس میں صحت عامہ کے ایک ادارے کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ پیرس حکومت پہلے ہی 15 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی پر غور کر رہی ہے۔

آسٹریلیا سمیت دنیا کے چند ممالک میں تو نوجوانون کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی ملک گیر پابندیاں یا تو نافذ ہو چکی ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔

فرانسیسی ماہرین کی کمیٹی کی طرف سے جائزہ

آسٹریلیا حال ہی میں دنیا کا ایسا پہلاملک بن گیا تھا، جہاں 16 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی دسمبر میں نافذ العمل ہو گئی تھی۔ ان پلیٹ فارمز میں انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ اس کے بعد دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی اپنے ہاں‌ ایسی ممکنہ پابندیوں پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی (تصویر) حال ہی میں نافذ العمل ہو گئی تھی
آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی حال ہی میں نافذ العمل ہو گئی تھیتصویر: Cristian Bonaviri/Sipa USA/picture alliance

فرانس میں اس مقصد کے لیے حکومت نے ذمے داری سائنسی ماہرین کی ایک ایسی ٹیم کو سونپی تھی، جسے یہ سفارشات دینا تھیں کہ آیا فرانس میں بھی کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جانا چاہیے؟

فرانس میں ملکی ماہرین کی ایک کمیٹی بھی دراصل گزشتہ پانچ برسوں سے اس بارے میں تحقیق کر رہی تھی کہ آیا سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کوئی منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں؟

اب سائنسی ماہرین کی ٹیم اور صحت عامہ پر نظر رکھنے والے فرانسیسی واچ ڈاگ ANSES نے اپنی تفصیلی رائے میں لکھا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے سے نوجوانوں کے لیے صحت کے کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروںتصویر: Yves Herman/AP/picture alliance

پبلک ہیلتھ واچ ڈاگ کے اخذ کردہ نتائج

فرانس میں صحت عامہ پر نظر رکھنے والے ادارے اے این ایس ای ایس نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فرانسیسی ٹین ایجرز کی ذہنی صحت کے زوال کے اسباب میں سے سوشل میڈیا کوئی واحد وجہ تو نہیں، تاہم ایسے میڈیا کے استعمال سے نوجوانوں میں ”منفی اثرات” بلاشبہ پیدا ہوتے ہیں اور ان کے بیسیوں تحقیقی مطالعات سے اخذ کردہ ”باقاعدہ دستاویزی شواہد‘‘ بھی موجود ہیں۔

اس فرانسیسی ادارے کی یہ رائے اس وجہ سے بھی بڑی اہم ہے کہ یورپی یونین کے رکن اس ملک میں پہلے ہی دو ایسے قانونی مسودوں پر باقاعدہ بحث جاری ہے، جن میں 15 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی ممانعت تجویز کی گئی ہے۔

پیرس میں فرانسیسی قومی اسمبلی کی عمارت
پیرس میں فرانسیسی قومی اسمبلی کی عمارتتصویر: Adnan Farzat/NurPhoto/picture alliance

ان دو قانونی مسودوں میں سے ایک تو فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کا حمایت یافتہ بھی ہے۔ اس لیے ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ فرانس جلد ہی ایسے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے، جہاں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے سے قانوناﹰ روک دیا گیا ہو۔

ایسے میں فرانسیسی ماہرین کی یہ رائے بھی باعث تشویش ہے کہ ایسی نوجوان لڑکیاں، جو اپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتی ہیں، انہیں ”صنفی تشخص سے جڑے ایسے سماجی دباؤ کا زیادہ سامنا‘‘ کرنا پڑتا ہے، جو بالآخر ان کی نفسیاتی صحت کو لڑکوں سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button