پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے خلاف بھارتی و افغان سوشل میڈیا پروپیگنڈے کی قلعی کھل گئی

ان علاقوں میں منشیات کی غیر قانونی کاشت سے نہ صرف مقامی معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس کے ذریعے دہشت گرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، کے ساتھ

پاکستان کے خلاف بھارتی، افغان اور بعض علیحدگی پسند حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر منظم گمراہ کن مہم چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بلوچستان میں انسدادِ منشیات کارروائیوں کو جان بوجھ کر ریاستی جبر اور بلوچ عوام کے خلاف مظالم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد اکاؤنٹس، جن میں @ashoswai (اشوک سوین، ایک سویڈش پروفیسر) اور @GanookJin شامل ہیں، نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں مسلح اہلکاروں کو سولر پینلز توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فوج یا سیکیورٹی فورسز نے ایک غریب بلوچ کسان کے سولر پینلز صرف اس لیے تباہ کر دیے کیونکہ اس نے فوج کے ساتھ تعاون یا اپنی زمین دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ان اکاؤنٹس کی جانب سے اس واقعے کو ریاستی جبر، بلوچ عوام سے نفرت، اور پاکستانی فوج کی نام نہاد منافقت کے بیانیے سے جوڑا گیا۔ یہ مواد تیزی سے پھیلا اور اسے بھارتی، افغان اور بعض بلوچ کارکنوں کے اکاؤنٹس نے وسیع پیمانے پر شیئر کیا، حتیٰ کہ اسے خطے میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔

پاکستان کے خلاف بھارتی و افغان سوشل میڈیا پروپیگنڈے کی قلعی کھل گئی

تاہم معتبر ذرائع اور حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے پلیٹ فارمز نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی بڑے پاکستانی یا بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے اس کہانی کو رپورٹ نہیں کیا، جو بذاتِ خود اس دعوے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

اصل حقیقت کیا ہے؟

سرکاری اور مستند معلومات کے مطابق، 2025 کے وسط سے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور مقامی پولیس صوبے کے مختلف علاقوں میں انسدادِ منشیات کی وسیع کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان آپریشنز کا مقصد بلوچستان میں منشیات کی غیر قانونی کاشت، خاص طور پر ایسے کھیتوں کا خاتمہ ہے جنہیں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے۔

یہ کارروائیاں خاص طور پر کوہلو، قلعہ عبداللہ، دکی اور ملحقہ اضلاع میں کی جا رہی ہیں، جہاں آف گرڈ سولر انفراسٹرکچر کو منشیات کے کھیتوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق، فصل کی کٹائی کے بعد اس انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانا اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں دوبارہ غیر قانونی کاشت نہ ہو سکے۔

دہشت گردی اور منشیات کا گٹھ جوڑ

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں منشیات کی غیر قانونی کاشت محض ایک سماجی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق دہشت گردی کی مالی معاونت سے ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر عسکریت پسند گروہ، نیز سرحد پار نیٹ ورکس، منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں اے این ایف اور ایف سی نے نہ صرف فیلڈ آپریشنز کیے بلکہ منشیات کے نقصانات سے آگاہی کے لیے سیمینارز اور مہمات بھی چلائیں، جن میں واضح کیا گیا کہ آف گرڈ سولر سسٹمز کو نشانہ بنانا عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی مالی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے۔

اہم امر یہ ہے کہ نہ آئی ایس پی آر اور نہ ہی اے این ایف کی جانب سے کوئی ایسا سرکاری بیان جاری کیا گیا جس میں ان کارروائیوں کو کسی کسان کے "عدم تعاون” سے جوڑا گیا ہو۔ اس زاویے کی تائید میں کوئی مستند یا زمینی ثبوت موجود نہیں۔

ویڈیو کا سیاق و سباق

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیو، جسے @ashoswai نے 18 جنوری 2026 کو شیئر کیا، 1 منٹ 8 سیکنڈ کی خام فوٹیج پر مشتمل ہے، جس میں کوئی آڈیو یا وضاحتی متن شامل نہیں۔ حقائق کی جانچ کرنے والے اکاؤنٹس اور تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ویڈیو بلوچستان میں انسدادِ منشیات کے انہی آپریشنز کی ہے جن میں غیر قانونی آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے سولر پینلز کو تباہ کیا جا رہا تھا۔

اسی طرح @GanookJin اور دیگر اکاؤنٹس نے اسی یا معمولی ترمیم شدہ کلپس کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے "بلوچ لوگوں سے نفرت” جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ بعد ازاں، پاکستانی صارفین اور بلوچ فیکٹ چیک پلیٹ فارمز نے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ من مانی تباہی نہیں بلکہ باقاعدہ انسدادِ منشیات چھاپے ہیں۔

پروپیگنڈا مہم کا مقصد

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے گمراہ کن بیانیے غیر تصدیق شدہ کارکنان کے اکاؤنٹس سے شروع ہو کر بھارت، افغانستان یا فتنہ الہند سے منسلک ذرائع کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں، جن کا مقصد پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینا، ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہوتا ہے۔

سرکاری ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری تمام کارروائیاں منشیات، دہشت گردی اور سرحد پار جرائم کے خاتمے کے لیے ہیں، نہ کہ کسی مخصوص قومیت یا طبقے کو نشانہ بنانے کے لیے۔

پاکستان عوام کے لیے ایڈوائزری

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر مصدقہ ویڈیوز اور دعوؤں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں، جب تک کہ ان کی تصدیق آئی ایس پی آر، اے این ایف پاکستان یا دیگر مستند سرکاری ذرائع سے نہ ہو جائے۔

حکومتِ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان میں انسدادِ منشیات، علاقائی استحکام اور ترقی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ گمراہ کن پروپیگنڈے کا مؤثر جواب حقائق کی بنیاد پر دیا جاتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button