
انصار ذاہدسیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
حکومتِ پاکستان نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے، بے روزگاری میں کمی اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے ایک اہم ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت سال 2026 کے دوران خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک میں 8 لاکھ پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق پالیسیوں میں اصلاحات، ہنر مندی کے فروغ اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ سے ہم آہنگ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، حکومت کی یہ حکمتِ عملی ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہ صرف روزگار کے مواقع حاصل کرتے ہیں بلکہ بھاری مقدار میں زرِ مبادلہ وطن بھیج کر قومی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔ خلیج ٹائمز کے مطابق، پاکستان رواں برس متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور عمان سمیت دیگر خلیجی ممالک میں مجموعی طور پر 800,000 نئی ملازمتوں کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 60,000 زیادہ ہیں۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی، چوہدری سالک حسین نے اس حوالے سے بتایا کہ سال 2025 کے دوران پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والی افرادی قوت کی تعداد 740,000 رہی، جبکہ حکومت نے 2026 میں اس ہدف کو بڑھا کر 800,000 تک لے جانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت نہ صرف بیرونِ ملک ملازمتوں کے مواقع بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پاکستانی کارکن بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت یافتہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں اس وقت 90 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، جو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ برس اوورسیز پاکستانیوں نے تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھجوائیں، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مالی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
حکومت پاکستان نے ہنر مندی کے فروغ کے لیے مختلف منصوبے شروع کر رکھے ہیں، جن میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ، زبانوں کی تربیت اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن پروگرام شامل ہیں، تاکہ پاکستانی افرادی قوت خلیجی اور یورپی منڈیوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق، گزشتہ سال دسمبر میں اٹلی نے بھی صحت اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان کو 10,500 ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی افرادی قوت کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے جائیں گے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں اضافہ نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے کو کم کرے گا بلکہ ملک میں غربت کے خاتمے، زرِ مبادلہ کے استحکام اور مجموعی اقتصادی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل، ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے ذریعے اس ہدف کو کامیابی سے حاصل کیا جائے گا۔



