
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس، جن میں زیادہ تر کا تعلق ہندوستانی یا افغان نیٹ ورکس سے جوڑا جا رہا ہے، یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے شہر تبریز میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں سے ’’پاکستان ساختہ ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ‘‘ برآمد ہوا ہے اور اس مبینہ معاملے کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کارروائی سے جوڑتے ہوئے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ یہ دعوے مختلف X (سابق ٹوئٹر) پوسٹس، انسٹاگرام ریلز اور چند نام نہاد انفومانیٹر اکاؤنٹس کے ذریعے تیزی سے پھیلائے گئے۔
ان پوسٹس میں گمنام ’’ایرانی ذرائع‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم نہ تو ان ذرائع کی شناخت سامنے لائی گئی اور نہ ہی کسی مستند یا سرکاری ایرانی ادارے نے ان الزامات کی تصدیق کی۔ ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے دعوے علاقائی سیاست میں غلط معلومات (Disinformation) کے ایک منظم رجحان کا حصہ ہیں، جن کا مقصد پاکستان اور ایران کے تعلقات کو کشیدہ کرنا ہے۔
معتبر ایرانی ذرائع کیا کہتے ہیں؟
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والی کمان (فرجا) نے 16 سے 18 جنوری 2026 کے دوران بوشہر اور دیگر علاقوں میں فسادی عناصر کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری کیں۔ ان کارروائیوں میں تقریباً 60 ہزار ہتھیار، گولہ بارود اور عسکری سازوسامان ضبط کیے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق، یہ ہتھیار موساد سے منسلک اور بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کے زیرِ اثر گروہوں سے تعلق رکھتے تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ ان سرکاری بیانات اور رپورٹس میں پاکستان کا نام کہیں بھی شامل نہیں۔ ایرانی میڈیا اور حکومتی اداروں نے بارہا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا اور ہتھیاروں کو ’’غیر ملکی فراہم کردہ‘‘ یا ’’درآمد شدہ‘‘ قرار دیا، مگر کسی بھی مقام پر پاکستانی ساختہ اسلحے یا پاکستان کے ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
تبریز کا ذکر بعض رپورٹس میں ضرور آیا، مگر وہ یا تو محدود بدامنی کے تناظر میں تھا یا الگ الگ اسمگل شدہ ہتھیاروں کی ضبطی کے حوالے سے، جسے کسی بھی معتبر ذریعے نے پاکستان سے منسوب نہیں کیا۔
ویڈیو فوٹیج کی حقیقت
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو دراصل ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نیوز کی ہے، جو 18 جنوری 2026 کو نشر کی گئی۔ اس فوٹیج میں مختلف اقسام کی رائفلز، پستول، گولہ بارود، اسکوپس اور عسکری گیئر میزوں پر رکھے دکھائے گئے ہیں، جن کے ساتھ ایرانی جھنڈے اور ضبطی کا سامان نظر آتا ہے۔ ویڈیو خاموش ہے، اس میں کوئی آڈیو یا تحریری شناخت موجود نہیں جو ہتھیاروں کی اصل یا ملکِ ساخت کی تصدیق کرے۔
ماہرین کے مطابق، ایسی فوٹیجز کو اکثر سیاق و سباق سے ہٹا کر جھوٹی سرخیوں کے ساتھ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے، جو پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کا ایک عام طریقہ ہے۔
سرکاری سطح پر تردید
اب تک نہ تو ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC)، نہ وزارتِ انٹیلی جنس، اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے ISPR یا وزارتِ خارجہ نے کسی ایسے دعوے کی تصدیق کی ہے جس میں پاکستانی ساختہ ہتھیاروں یا پاکستان کے ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کا الزام ثابت ہو۔ بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا رپورٹس بھی ان سوشل میڈیا دعوؤں کی حمایت نہیں کرتیں۔
پس منظر: خطے میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ
حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں کے مطابق، خطے میں غیر قانونی اسلحے کی گردش کا ایک بڑا سبب 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چھوڑا گیا اسلحہ ہے۔ طالبان کے قبضے میں آنے والے اربوں ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیاروں میں سے کئی افغانستان-ایران سرحد کے قریب غیر محفوظ راستوں سے اسمگل ہوئے، فروخت ہوئے یا بلیک مارکیٹ کا حصہ بنے۔ یہی پس منظر اکثر ایسے ہتھیاروں کی ’’غیر ملکی‘‘ شناخت کی وضاحت کرتا ہے، مگر اس کا براہِ راست تعلق پاکستان سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔
نتیجہ
ماہرین اور فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تبریز میں پاکستانی ساختہ ہتھیاروں اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کارروائی میں پاکستان کے ملوث ہونے کے دعوے بے بنیاد، غیر مصدقہ اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ یہ دعوے زیادہ تر کم ساکھ والے، پاکستان مخالف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سامنے آئے ہیں اور ان کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا ہے۔
معتبر ایرانی ذرائع کی توجہ واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل پر مرکوز ہے، جبکہ پاکستان سے متعلق کوئی سرکاری الزام یا ثبوت موجود نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کی غلط معلومات کے مقابلے کے لیے ذمہ دار صحافت اور مستند ذرائع پر انحصار ناگزیر ہے۔






