
پولیس داخلی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن، پاک فوج پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: فیلڈ مارشل اینڈ چیف آف ڈیفنس اسٹاف
پولیس اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے قابلِ فخر سرمایہ ہیں اور دہشت گردی، جرائم اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کے خلاف پولیس نے فرنٹ لائن فورس کے طور پر بے مثال کردار ادا کیا ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDF) نے نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان پولیس سروس کے افسران اور زیرِ تربیت کیڈٹس سے تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ بھی موجود تھے۔
پرتپاک استقبال اور گارڈ آف آنر
نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے فیلڈ مارشل کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جو پولیس فورس کے نظم و ضبط، پیشہ ورانہ معیار اور قومی سلامتی کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کا مظہر تھا۔
پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پولیس شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے ان پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک بھر میں امن و امان، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے قابلِ فخر سرمایہ ہیں اور دہشت گردی، جرائم اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کے خلاف پولیس نے فرنٹ لائن فورس کے طور پر بے مثال کردار ادا کیا ہے۔
داخلی سلامتی میں پولیس کا کلیدی کردار
فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں دفاع کی پہلی لائن ہے اور داخلی سلامتی کے نظام میں پولیس کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوان روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر قوم کے امن کو یقینی بنا رہے ہیں۔
SHIELD اور جدید تربیتی اقدامات پر بریفنگ
دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو اسکول فار ہائی امپیکٹ ایلیٹ لا انفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں پولیس کی استعداد کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری پروگراموں اور اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں پولیس کی جدید خطوط پر تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
زیرِ تربیت اے ایس پیز سے براہِ راست گفتگو
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیڈٹ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASP’s) سے بھی ملاقات کی اور ان سے براہِ راست خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پولیس افسران کو دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ایک مقدس فریضہ ہے اور پولیس افسران کو قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔
ادارہ جاتی تعاون اور جدید پولیسنگ پر زور
انسپکٹرز جنرل آف پولیس (IGPs)، ایڈیشنل آئی جیز اور سینئر پولیس حکام سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے اداروں کے درمیان قریبی تعاون، مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ اور جدید پولیسنگ کے طریقوں کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد داخلی سلامتی کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
مضبوط اور عوام دوست پولیس فورس ناگزیر ہے
فیلڈ مارشل نے کہا کہ اندرونی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط، پیشہ ورانہ اور عوام دوست پولیس فورس ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کے نفاذ کی ذمہ داری ایک مقدس امانت ہے جسے دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔
پاک فوج کا پولیس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے اختتامی ریمارکس میں کہا کہ مسلح افواج پاکستان، پولیس فورس کے بہادر افسران اور جوانوں کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور پولیس و افواجِ پاکستان کا باہمی اشتراک پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔
پولیس قیادت کا اصلاحات کے عزم کا اعادہ
اس موقع پر سینئر پولیس قیادت نے پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافے اور عصری سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔









