پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

نیب نے دو دہائیوں بعد بینکرز سٹی کے متاثرین کو 1.2 ارب روپے واپس کرکے عوامی اعتماد بحال کر دیا

چیئرمین نیب کی زیر صدارت تقریب، 476 متاثرین میں 341 ملین روپے تقسیم

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد/راولپنڈی نے دو دہائیوں پر محیط طویل قانونی جدوجہد کے بعد بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے فراڈ سے متاثرہ شہریوں کو ان کی لوٹی گئی رقوم واپس کرکے ایک تاریخی مثال قائم کر دی ہے۔ نیب ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران متاثرین میں بازیاب شدہ رقوم کی تقسیم کی گئی، جسے عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔


تقریب کی صدارت چیئرمین نیب نے کی

تقریب کی صدارت چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کی، جبکہ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان، دیگر ڈائریکٹر جنرلز، سینئر افسران اور متاثرین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔


بینکرز سٹی اسکینڈل: دو دہائیوں پر محیط فراڈ کی داستان

بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکینڈل پہلی مرتبہ 2006 میں منظرِ عام پر آیا، جس کے بعد عوامی شکایات کی بنیاد پر 2007 میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ یہ ہاؤسنگ سوسائٹی 2003 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئی تھی اور انتظامیہ نے اسلام آباد، راولپنڈی اور ہری پور میں 14 ہزار کنال اراضی ہونے کے دعوے کیے تھے۔

تاہم نیب کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سوسائٹی انتظامیہ نے سینکڑوں شہریوں کو گمراہ کن اشتہارات، غیر مصدقہ دستاویزات اور جھوٹے دعوؤں کے ذریعے سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، حالانکہ زمین نہ تو متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ تھی، نہ کنسولیڈیٹ کی گئی تھی اور نہ ہی وعدے کے مطابق پلاٹس فراہم کیے گئے۔


سخت تحقیقات کے بعد 1.209 ارب روپے کی ریکوری

مسلسل اور سخت تحقیقات، پیچیدہ قانونی کارروائی اور طویل عدالتی عمل کے بعد نیب نے ملزمان سے مجموعی طور پر 1 ارب 209 ملین روپے برآمد کر لیے۔ نیب حکام کے مطابق مزید رقوم کی بازیابی کے لیے کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

ایک غیر معمولی کامیابی میں نیب نے متاثرین کو ایسی رقم واپس کی جو بعض کیسز میں ان کی اصل سرمایہ کاری سے ڈھائی گنا زیادہ ہے، جو احتسابی ادارے کی کارکردگی اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔


لاہور ہائی کورٹ کے کردار کو سراہا گیا

چیئرمین نیب نے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی کی زیر قیادت تحقیقاتی ٹیم اور پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے ملزمان کی اپیل خارج کر کے کیس کو عوامی مفاد میں دوبارہ ٹرائل کورٹ بھجوانے کا فیصلہ دیا۔


476 متاثرین میں 341 ملین روپے کی تقسیم

تقریب کے دوران مجموعی طور پر 476 متاثرین میں 341 ملین روپے تقسیم کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق:

  • 316 متاثرین کو پیمنٹ آرڈرز کے ذریعے 120 ملین روپے

  • 160 متاثرین کو آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے 221 ملین روپے

نیب حکام کے مطابق باقی ماندہ رقوم کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد آئندہ مراحل میں مزید 2,200 متاثرین میں ادائیگیاں کی جائیں گی۔


چیئرمین نیب کا خطاب: انصاف ناممکن نہیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ یہ کیس ان معاملات میں شامل تھا جن کے بارے میں عام تاثر تھا کہ اب انصاف ممکن نہیں رہا، تاہم نیب کی مسلسل کوششوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت صاف ہو تو انصاف ضرور ملتا ہے۔

انہوں نے نیب راولپنڈی کی ٹیم اور قانونی ونگ کی مربوط کاوشوں کو کامیابی کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب ایک عوام دوست ادارہ ہے اور معصوم شہریوں کو لوٹنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گا۔


سرمایہ کاری سے قبل تصدیق کی تلقین

چیئرمین نیب نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم یا سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت اور متعلقہ اداروں سے منظوری کی مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ فراڈ سے بچا جا سکے۔


ڈی جی نیب کی بریفنگ

ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیس کے دوران چھپے ہوئے اثاثوں اور منجمد اکاؤنٹس کا سراغ لگانا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شفافیت اور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے نئے متاثرین کے دعوے اب بھی تصدیقی عمل کے تحت قبول کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیب آخری متاثرہ فرد تک اس کی رقم واپس دلانے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔


متاثرین کے تاثرات: اداروں پر اعتماد بحال

تقریب کے دوران ایک بیوہ متاثرہ خاتون نے جذباتی انداز میں بتایا کہ اس کے مرحوم شوہر نے بینکرز سٹی کی فائل خریدی تھی۔ چیک موصول ہونے پر انہوں نے اپنے شوہر کی قبر پر جا کر دعا کی اور کہا،
“اس اقدام نے ریاستی اداروں پر میرا اعتماد بحال کر دیا ہے۔”

ایک چینی شہری متاثرہ سرمایہ کار نے بھی نیب کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور منصفانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے غیر ملکی شہریوں کے ساتھ بھی مکمل شفافیت اور احترام کا مظاہرہ کیا۔


تحقیقاتی ٹیم کے اعزاز میں شیلڈز اور عمرہ پیکجز

تقریب کے اختتام پر چیئرمین نیب نے اس کیس میں غیر معمولی محنت اور لگن دکھانے والے تحقیقاتی ٹیم کے ارکان میں تعریفی شیلڈز اور عمرہ پیکجز تقسیم کیے، جس پر شرکاء نے تالیاں بجا کر ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔


یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف ہزاروں متاثرین کے لیے انصاف کی امید بنی ہے بلکہ اس نے احتسابی نظام پر عوامی اعتماد کو بھی نئی زندگی دی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button