
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
21 جنوری 1990 کو پیش آنے والا سانحہ گاؤکدل مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کے ان دردناک اور خونی واقعات میں شمار ہوتا ہے جس نے پوری وادی کو لرزا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف درجنوں بے گناہ شہریوں کی جانیں لے گیا بلکہ کشمیری عوام اور بھارتی ریاست کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر گیا۔ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ سانحہ آج بھی انصاف، احتساب اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک کھلا سوال بنا ہوا ہے۔
پُرامن عوامی تحریک کا پس منظر
1989 کے اواخر سے وادیٔ کشمیر میں ایک وسیع مگر پُرامن عوامی تحریک ابھر رہی تھی۔ اس تحریک کا مقصد اپنے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اور کشمیری عوام کے دیرینہ مطالبات کو اجاگر کرنا تھا۔ مظاہروں میں نوجوان، بزرگ، خواتین اور مختلف طبقۂ فکر کے افراد شامل تھے، جو پرامن انداز میں احتجاج کر رہے تھے۔
تاہم 19 جنوری 1990 کے بعد وادی میں حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر عسکری شکل دے دی گئی، کرفیو نافذ کر دیا گیا اور شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہوئیں۔ طاقت کے بے دریغ استعمال کو حکمرانی کا بنیادی ذریعہ بنا لیا گیا، جس کے نتیجے میں عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تناؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
21 جنوری 1990: خون میں ڈوبا ہوا احتجاج
21 جنوری کی صبح سری نگر کی سڑکوں پر ہزاروں نہتے شہری پُرامن انداز میں جمع ہوئے۔ یہ مظاہرین منظم، باوقار اور غیر مسلح تھے۔ ان کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں بلکہ اپنے مطالبات اور امیدیں تھیں۔ مظاہرین کا جلوس اقوامِ متحدہ کے دفتر کی جانب رواں دواں تھا اور اس کا راستہ گاؤکدل پل سے ہو کر گزرتا تھا۔
جیسے ہی جلوس گاؤکدل پل کے قریب پہنچا، بھارتی فورسز خصوصاً سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) نے مظاہرین کا راستہ روک لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق کسی قسم کی وارننگ، اعلان یا اشتعال انگیزی کے بغیر فورسز نے نہتے شہریوں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی۔
لاشوں سے بھرا پل، زخمیوں سے بھری گلیاں
فائرنگ کے نتیجے میں گاؤکدل پل، اطراف کی سڑکیں اور دریائے جہلم لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے۔ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے رہے، کچھ دریا میں کود گئے جبکہ کئی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ فضا چیخ و پکار، آہ و بکا اور گولیوں کی آوازوں سے گونجتی رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں 50 سے 60 شہری شہید ہوئے، جبکہ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق شہداء کی تعداد 100 سے زائد تھی۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد کو گولیوں کے شدید زخم آئے۔ کئی زخمی بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
تحقیقات، احتساب اور انصاف کی عدم موجودگی
سانحہ گاؤکدل کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہوں گی، ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس رہی۔
تین دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ کوئی آزاد تحقیق ہو سکی، نہ کسی اہلکار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی شہداء کے لواحقین کو انصاف ملا۔ یہ سانحہ ان بے شمار واقعات میں شامل ہو گیا جہاں انسانی جانوں کے ضیاع کو ریاستی طاقت کے سائے میں دبا دیا گیا۔
سانحہ گاؤکدل: جدوجہد کی علامت
سانحہ گاؤکدل نے کشمیری عوام کے اس احساس کو مزید مضبوط کیا کہ جب پُرامن مطالبات کا جواب گولیوں سے دیا جائے تو جدوجہد ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ کشمیری عوام طاقت نہیں بلکہ حقِ انتخاب، وقار اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آج بھی ایک سوال
21 جنوری 1990 محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ سوال ہے—انسانی حقوق، انصاف اور ریاستی ذمہ داری کا سوال۔ جب تک اس سانحے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جاتا اور متاثرین کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، گاؤکدل کشمیر کی اجتماعی یادداشت میں ایک کھلے زخم کی طرح موجود رہے گا، جو آنے والی نسلوں کو بھی یہ یاد دلاتا رہے گا کہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔



