پاکستاناہم خبریں

ڈیووس،سوئٹزرلینڈ: پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کیے گئے ہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تعریف کی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعظم آفس کے ساتھ
ڈیووس (سوئٹزرلینڈ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، جاری اصلاحاتی عمل، میکرو اکنامک استحکام اور عالمی اقتصادی چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریوں میں نمایاں بہتری سے آگاہ کیا اور کہا کہ حالیہ عرصے میں مالیاتی نظم و ضبط، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت کے استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت پاکستان ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پائیدار اور جامع ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت محصولات میں اضافے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات، اور نجی شعبے کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کیے گئے ہیں، جن کے مثبت اثرات آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے حصول کے لیے درست سمت میں پیش رفت کی ہے اور یہ اقدامات مستقبل میں طویل مدتی اقتصادی لچک (Long-term Economic Resilience) کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے اور پالیسیوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا تاکہ حاصل کردہ استحکام کو پائیدار بنایا جا سکے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر بھی گفتگو کی۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجز، عالمی مالیاتی عدم یقینی صورتحال، بلند شرحِ سود، قرضوں کے دباؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے معاشی اثرات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اقتصادی استحکام کے تحفظ اور ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعاون ملک کی معاشی بحالی اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ ملاقات کو پاکستان کی معاشی سفارت کاری کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کے اصلاحاتی عزم اور اقتصادی استحکام کے پیغام کو مزید تقویت دیتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button