
پاکستان کے علاقہ کچہ میں آپریشن، پولیس کا بڑا کامیاب حملہ، 95 ڈاکوؤں کا سرنڈر، عمرانی گینگ کے 41 ڈاکو بھی ہتھیار ڈال چکے
ڈاکوؤں کے ٹھکانوں پر ڈورن سے گولا باری، پولیس کا واضح پیغام - "گرفتاری دو، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے"
پیر مشتاق رضوی جنوبی پنجاب پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ
راجن پور/رحیم یار خان: کچہ کے علاقے میں پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شدت اختیار کر چکا ہے اور اب تک 95 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں نے سرنڈر کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب عمرانی گینگ کے 41 ڈاکوؤں نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں، جن میں ایک کروڑ انعام یافتہ ڈاکو وہاب لنڈ سمیت دیگر اہم ملزمان شامل ہیں۔ یہ آپریشن پولیس کی سخت حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جاری ہے، جس میں ڈورن سے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں پر گولا باری کی جارہی ہے۔
ڈی پی او محمد عمران کی پریس کانفرنس: پولیس کی کامیاب کارروائیاں جاری
ڈی پی او راجن پور محمد عمران نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس کی مسلسل کارروائیوں کے باعث ڈاکوؤں کا گھیراؤ تنگ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں مرنے کے خوف سے عمرانی گینگ کے 41 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ایک کروڑ سر کی قیمت والے بدنام ڈاکو، جن میں عطا اللہ پٹ، ڈاڈو بنگیانی، گورا عمرانی اور وہاب لنڈ شامل ہیں، سرنڈر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 25 لاکھ سر کی قیمت والے وقار عرف وقاری عمرانی نے بھی اپنی گرفتاری پیش کی۔
گرفتاری دینے والے ڈاکوؤں کی فہرست
سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی فہرست میں 18 انتہائی مطلوب ڈاکو شامل ہیں جنہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ ان میں عبدالوہاب لنڈ، انیس لنڈ، شاہ دین لنڈ، نصر اللہ لنڈ، حبیب اللہ لنڈ، یونس لنڈ، شبیر لنڈ، محمد یار لنڈ، عبدالمجید لنڈ، شاید حسین لنڈ، بشیر احمد لنڈ، عبدالکریم لنڈ، شاہ نواز لنڈ، ناصر لنڈ، عزیز اللہ لنڈ، حلیم لنڈ، شمس الدین لنڈ اور کمال دین لنڈ شامل ہیں۔
پولیس کا واضح پیغام: ڈاکوؤں کے لیے کوئی رعایت نہیں
ڈی پی او راجن پور محمد عمران نے کہا کہ پولیس کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم پیشہ عناصر کا گھیرا مزید تنگ ہو چکا ہے اور ان ڈاکوؤں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرنڈر کرنے والے ڈاکو بھاری اسلحہ کے ساتھ پولیس کے سامنے پیش ہوئے ہیں اور ان کے خلاف اغوا، قتل اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔
کچہ آپریشن کا تسلسل: مزید ڈاکوؤں کی گرفتاری متوقع
ڈی پی او محمد عمران نے مزید بتایا کہ کچہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں مکمل امن و امان قائم نہیں ہو جاتا۔ پولیس کا واضح پیغام ہے کہ جو ڈاکو خود کو قانون کے حوالے نہیں کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس آپریشن کے دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور بنکرز کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب اور آر پی او ڈیرہ غازی خان کی ہدایات
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او ڈیرہ غازی خان نے کچہ کے علاقے میں کامیاب کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پولیس کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف یہ آپریشن کامیابی سے جاری رہے گا تاکہ علاقے میں امن و امان قائم ہو سکے۔
شہریوں کا تعاون: کچہ آپریشن میں عوام کی حمایت
کچہ آپریشن کے دوران پولیس کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور شہریوں نے اس آپریشن کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیوں کی وجہ سے علاقے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے اور اب وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں کچہ کے علاقے میں امن قائم ہوگا اور جرائم کا خاتمہ ہو جائے گا۔
خلاصہ
کچہ کے علاقے میں پولیس کی کامیاب کارروائیوں کے دوران 95 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے، جن میں انتہائی مطلوب عمرانی گینگ کے 41 ڈاکو بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا، اور جو ڈاکو سرنڈر نہیں کرتے، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔




