
سید عاطف ندیم اے پی پی، اے ایف پی، پاکستانی میڈیا ادارے
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حال ہی میں حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس” میں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر شامل ہو رہی ہے۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو ملک کے پارلیمانی نظام کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کسی بھی بین الاقوامی ادارے میں شامل ہونے سے پہلے قومی اسمبلی میں مشاورت کی جائے۔
حکومت کا موقف: قومی مفاد اور مسلم برادری کی ترجیحات
پاکستانی وزیرِ امورِ پارلیمانی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "بورڈ آف پیس” میں پاکستان کی شرکت کا مقصد فلسطینی عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا اور مسئلۂ فلسطین کے حل کی عالمی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی مصلحتوں سے ہٹ کر، صرف قومی مفاد اور مسلم دنیا کی اجتماعی ترجیحات کے مدنظر کیا گیا ہے۔ وزیرِ امورِ پارلیمانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کے مطابق، حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اپوزیشن کی تنقید: قومی اسمبلی کی عدم مشاورت
پاکستان کی اہم اپوزیشن جماعتیں، بشمول پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)، نے اس فیصلے پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس پر سوال اٹھایا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اس معاملے پر کوئی مشاورت کیوں نہیں کی۔
مولانا فضل الرحمان نے اس فیصلے کو ملکی خارجہ پالیسی کے ساتھ کھلا کھلواڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بیرونی دباؤ کے تحت تشکیل دی جاتی ہے اور اس میں کبھی بھی قومی مفادات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو کسی صورت بھی ایسے "بورڈ آف پیس” کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو شامل ہوں، کیونکہ یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف: شفافیت اور مشاورت کا مطالبہ
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کیا ہے اور اس پر مکمل شفافیت اور تمام سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت کی "جلد بازی” میں کی گئی شرکت نہ صرف "نامناسب بلکہ ناقابلِ فہم” ہے۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اس میں مشاورتی عمل کو مکمل کرنے تک کسی بھی قسم کی شمولیت کو روک دیا جائے۔
ٹرمپ کا "بورڈ آف پیس”: عالمی امن کے لیے ایک نیا اقدام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایک نئے بین الاقوامی ادارے "بورڈ آف پیس” کا آغاز کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی، جہاں ٹرمپ نے اس کی اولین دستاویز پر دستخط کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "ہم دنیا میں امن قائم کرنے جا رہے ہیں۔” ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ بورڈ اب تک کا سب سے اہم اور بااثر ادارہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بورڈ آف پیس کا مقصد عالمی سطح پر جنگ بندی کے انتظامات، انسانی امداد کی فراہمی اور جنگ کے بعد کی تعمیر نو کی کوششوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، اس ادارے کے ذریعے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وسیع تر سیاسی عمل کی حمایت کی جائے گی۔






