
پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر
اختتامی تقریب پشاور میں منعقد، شرکاء کی پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اظہار
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا کی اختتامی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی، جس کے ساتھ ہی 11 جنوری سے شروع ہونے والی یہ قومی سطح کی اہم ورکشاپ 22 جنوری 2026 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اس ورکشاپ کا مقصد قومی سلامتی سے متعلق آگاہی، باہمی اعتماد کے فروغ اور مختلف طبقات کے درمیان مؤثر مکالمے کو فروغ دینا تھا۔
ورکشاپ میں متنوع طبقات کی بھرپور شرکت
نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں ملک مشران، اکیڈیمیا، میڈیا نمائندگان، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں شریک 91 شرکاء میں سے تقریباً 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے 20 فیصد نمائندگی بھی شامل تھی۔
اس کے علاوہ پشاور کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے 150 اسکالرز نے بھی ورکشاپ کے مختلف سیشنز میں شرکت کی، جس سے علمی اور فکری سطح پر مباحث کو مزید تقویت ملی۔
قومی قیادت کے ساتھ خصوصی سیشنز
ورکشاپ کے دوران شرکاء کے لیے وزیرِاعظم پاکستان اور ملک کے دیگر اہم اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ ان سیشنز میں قومی سلامتی، داخلی و خارجی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور ریاستی بیانیے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے ان سیشنز کو نہایت معلوماتی اور بصیرت افروز قرار دیا۔
ملکی دورے اور عملی مشاہدہ
ورکشاپ کے دوران شرکاء کو ملک کے مختلف شہروں کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جہاں انہیں قومی اداروں کے کردار، ترقیاتی منصوبوں اور سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں براہِ راست آگاہی فراہم کی گئی۔ ان دوروں کا مقصد شرکاء کو عملی طور پر قومی سلامتی کے تناظر کو سمجھنے کا موقع دینا تھا۔
اختتامی سیشن: کور کمانڈر پشاور سے خصوصی نشست
ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس میں انہوں نے شرکاء کے سوالات کے جامع، مدلل اور کھلے انداز میں جوابات دیے۔ اس نشست کے دوران قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور گمراہ کن پروپیگنڈا کے پھیلاؤ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
کور کمانڈر پشاور نے اس بات پر زور دیا کہ گمراہ کن پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے، اور اس میں عوام، میڈیا اور تعلیمی اداروں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
شرکاء میں سرٹیفکیٹس کی تقسیم اور شہداء کو خراجِ عقیدت
اختتامی تقریب کے دوران کور کمانڈر پشاور نے ورکشاپ کے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر شرکاء نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
شرکاء کا مشترکہ اعلامیہ
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ:
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
پاک فوج دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور ہم افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
افواجِ پاکستان نے مادرِ وطن کے دفاع میں ہمیشہ لازوال قربانیاں دی ہیں جنہیں قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
گمراہ کن اور منفی پروپیگنڈا کے تدارک کے لیے ہر فرد اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
نتیجہ
نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا کو شرکاء اور منتظمین کی جانب سے ایک کامیاب، بامقصد اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔ اس ورکشاپ نے نہ صرف قومی سلامتی سے متعلق شعور اجاگر کیا بلکہ مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور ریاستی اداروں کے ساتھ مثبت مکالمے کو بھی فروغ دیا، جو مستقبل میں امن و استحکام کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔



