
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ہندوستان کے ملٹری چیف نے پاکستان کی مجوزہ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اسے ایک متنازع قدم قرار دیا ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ نے اپنے بیان میں پاکستان کو فلسطین کا حامی اور بالواسطہ طور پر حماس کا حمایتی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان اس پلیٹ فارم کو مستقبل میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
بھارتی ملٹری چیف کے تحفظات
بھارتی ملٹری چیف کے مطابق غزہ پیس بورڈ جیسے بین الاقوامی فورمز میں پاکستان کی شمولیت خطے میں طاقت کے توازن اور سلامتی کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی عالمی فورمز کو اپنے سیاسی اور سفارتی مؤقف، بالخصوص مسئلہ کشمیر، کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ غزہ پیس بورڈ کو بھی اسی مقصد کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
بھارتی عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی فلسطینی کاز کے لیے کھلی حمایت اسے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش نہیں ہونے دیتی، جس کے باعث اس کی شمولیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
فلسطین اور حماس سے متعلق الزامات
بھارتی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستان فلسطینی موقف کا حامی ہے اور اس کی پالیسیوں کو حماس کے ساتھ ہمدردی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بھارتی ملٹری چیف نے کہا کہ ایسے ملک کی شمولیت، جس پر ایک فریق کی حمایت کا تاثر ہو، امن کے کسی بھی بین الاقوامی اقدام کو متنازع بنا سکتی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے بھی مخالفت
بھارت کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے بھی پاکستان کی غزہ پیس بورڈ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی واضح فلسطین نواز پالیسی اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی اسے اس نوعیت کے فورم پر غیر جانبدار کردار ادا کرنے سے روکتی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ سلامتی کے نازک معاملات میں ایسے ممالک کی شمولیت، جن کا جھکاؤ ایک خاص فریق کی جانب ہو، امن عمل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ سلامتی خدشات
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت اور اسرائیل دونوں پاکستان کی شمولیت کو اپنے اپنے قومی سلامتی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان اس فورم کو کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا، جبکہ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ پاکستان فلسطینی مؤقف کو مزید تقویت دینے کی کوشش کرے گا۔
دونوں ممالک نے خوف اور سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کو جائز قرار دیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
دوسری جانب پاکستان ماضی میں متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ اس کی فلسطین پالیسی اصولی بنیادوں پر قائم ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل چاہتا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن فورم میں شمولیت کا مقصد انسانی بحران کا خاتمہ، جنگ بندی اور دیرپا امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف سیاسی مہم چلانا۔
عالمی ردِعمل اور مستقبل کی صورتِ حال
بین الاقوامی سطح پر ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ پیس بورڈ جیسے فورمز پہلے ہی شدید دباؤ اور اختلافات کا شکار ہیں۔ ایسے میں مختلف ممالک کی جانب سے مخالفت اور الزامات اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا پاکستان اپنی شمولیت کے ذریعے ایک فعال اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر پاتا ہے یا خطے کی سیاست اور عالمی اختلافات اس فورم کی فعالیت کو محدود کر دیتے ہیں۔



