
اے ایف پی، اے پی، روئٹرز
انہوں نے یہ بات جمعرات کی رات برسلز میں ہونے والے ایک ہنگامی سربراہی اجلاس کی صدارت کے بعد کہی۔
یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیم خودمختار ڈینش علاقے گرین لینڈ کو ضم کرنے اور یورپی یونین کے بعض ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرِثانی کے لیے بلایا گیا تھا۔
تاہم اجلاس سے ایک دن قبل ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ٹرمپ نے ٹیرفس سے متعلق اپنا دھمکی آمیز رویہ ترک کرتے ہوئے کہا کہ وہ آرکٹک جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

یورپی سربراہی اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن کوسٹا نے کہا کہ اب ترجیح جولائی 2025 میں طے پانے والے یورپی یونین-امریکہ تجارتی معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
امریکہ یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ کوسٹا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہدف بدستور تجارتی تعلقات میں مؤثر استحکام کو یقینی بنانا ہے۔‘‘
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین ”اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے خلاف اپنے، اپنے رکن ممالک، اپنے شہریوں اور اپنی کمپنیوں کا دفاع کرے گی۔‘‘
سربراہی اجلاس کے بعد یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے تسلیم کیا کہ یورپ نے ”آرکٹک اور اس کی سلامتی میں بہت کم سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ 2028 ء سے شروع ہونے والے اگلے یورپی یونین بجٹ میں کمیشن گرین لینڈ کے لیے مالی معاونت دوگنی کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ٹیم جلد ہی گرین لینڈ میں سرمایہ کاری کے لیے ایک جامع پیکج پیش کرے گی، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

جرمن چانسلر کی جانب سے ٹرمپ کے اقدامات کا خیر مقدم
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے ڈاووس میں ٹرمپ کے اچانک یو ٹرن کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”میں اس بات پر بہت شکر گزار ہوں کہ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے اپنے ابتدائی منصوبوں سے خود کو الگ کر لیا اور یہ بھی کہ انہوں نے یکم فروری کو اضافی ٹیرف عائد کرنے سے گریز کیا۔‘‘
میرس نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے ممالک کو آئندہ ”یورپی یونین کی لچک اور مضبوطی میں اضافہ کرنا ہوگا۔‘‘
تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا کہ امریکی دباؤ کی پالیسی کے خلاف اقدامات پر مبنی تجارتی نظام اور اس جیسے دیگر تمام آلات بدستور یورپی یونین کے پاس موجود ہیں۔
انہوں نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ جب یورپ متحد ہو کر، اپنے پاس موجود ذرائع استعمال کرتے ہوئے کسی خطرے کا جواب دیتا ہے، تو وہ احترام حاصل کر سکتا ہے، اور یہ ایک بہت اچھی بات ہے۔‘‘



