
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کی عدالتوں نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی ترجمان ایمان مزاری اور معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہادی علی چٹھہ کو متنازعہ ٹویٹس اور دہشت گردوں کی حمایت میں بیانیے دینے کے جرم میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازعہ ٹویٹس

عدالت کے فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انھوں نے نہ صرف ’ریاست مخالف‘ مواد سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا ہے بلکہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم جیسی کالعدم تنظیموں اور ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور منظور پشتین جیسی شخصیات کے بیانیے کو بھی پھیلایا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق پراسکیوشن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ان الزامات کو ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو ایک اور کیس میں وفاقی دارالحکومت سے حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں پر سوشل میڈیا پر ردِعمل
،تصویر کا ذریعہXدوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فیصلے پر تنقید بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’لگتا ہے ساری دفعات صرف ایمان اور ہادی پر ہی لگانی ہیں۔ اسی شہر میں فسادی آزاد ہیں اور ایمان قید۔‘
’یہ دُہرا معیار اور ناانصافی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آج ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزا پر خوشیاں منانے والے بھول رہے ہیں کہ وقت نے بدل جانا ہے اور کل کسی اور نے زیرِ اعتاب آنا ہے۔‘
تاہم سوشل میڈیا پر کچھ صارفین دونوں وکیلوں کو دی جانے والی سزاؤں کی حمایت میں بھی بول رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX
ایک صارف نے لکھا کہ ’پیکا ایکٹ کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا دینا کسی آواز کو دبانا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی قائم کرنا ہے۔‘
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر کیا الزامات ہیں؟
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست کو درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔
اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
پانچ دسمبر کو ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے نہ صرف پراسیکیوشن پر اعتراض اٹھایا بلکہ انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس مقدمے کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دی تھی۔
اس دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھیں اس مقدمے میں سزا دی جائے گی اور وہ بھی سات سال ہو گی لیکن وہ یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔
اس پر جج افضل مجوکا مسکرا دیے اور پراسیکیوٹر کو کہا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق حتمی دلائل دیں۔
ملزم ہادی علی چٹھہ نے اس دوران عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان داخل کروانے اور اپنی صفائی میں گواہ لانے کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔
ملزم ہادی چٹھہ نے اپنی درخواست کے حق میں خود ہی دلائل دیے تھے اور کہا تھا کہ 342 کا بیان اصل میں ملزم کا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق سٹیٹ کونسل نے 342 کا جواب دیا اور وہ 342 کا جواب سٹیٹ کونسل کا ہے ملزمان کا نہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا کہ جب اس مقدمے کی کارروائی کے دوران گواہان پر جرح ہوئی تو سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دے دیا گیا اور پراسیکیوشن نے سٹیٹ کونسل کو سوالنامہ دیا، جس پر ملزم نے انحصار نہیں کیا۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سوالنامہ نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے 33 سوالات پر مشتمل سوالنامہ انھیں دیا۔
ہادی چٹھہ کا کہنا تھا کہ ہم سٹیٹ کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست عدالت کو دے چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنا 342 کا جواب دینا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گواہان کی بھی فہرست ہے اور ان گواہان میں صحافی احمد نورانی کی والدہ، صحافی مدثر نارو کی والدہ، سردار اختر مینگل، شاعر احمد فرہاد، عارفہ نور ودیگر گواہان میں شامل ہیں۔
ہادی چٹھہ نے کہا تھا کہ عدالت اگر چاہے تو گواہان کو سمن بھی کر سکتی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو ایک اور کیس میں وفاقی دارالحکومت سے حراست میں لیا تھا جس کی تصدیق بعد ازاں اسلام آباد پولیس نے کی۔
بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو تھانہ سیکرٹریٹ میں گزشتہ برس درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انھوں نے اس مقدمے کی ایف ائی آر عدالت میں پیش نہیں کی۔
اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو نقصِ امن یعنی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنے، شر انگیزی پھیلانے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔
تفتیشی افسر نے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مسترد کردی اور ان دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
اس سے قبل ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ ‘ایمان اور ہادی کو گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتاری سے قبل انھیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، بدقسمتی سے (اسلام آباد) بار کچھ نہ کر سکی۔ یہ فسطائیت کا عروج ہے۔۔۔’
وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ سے منسلک وکلا کے مطابق یہ دونوں متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں سییشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سوار ہو کر جا رہے تھے جب سرینا ہوٹل کے قریب پولیس نے اُن کی گاڑی کو روکا اور دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیا۔
جس وقت پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی گاڑی میں ایمان اور ہادی کے ساتھ موجود تھے۔
یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل سپیشل جج سینٹرل کی طرف سے جاری کردہ ایمان اور ہادی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے گذشتہ برس جولائی میں تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے مقدمے میں ایمان اور ہادی کی ایک دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی لیکن اس کے باوجود اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد ہائی کوٹ کے باہر تعینات تھی اور اسی دوران ان کے خلاف ایک اور مقدمے کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر نے گذشتہ تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں ہی گزاریں تاہم جمعہ کی صبح انھیں عدالت کے احاطے سے نکلنے کے کچھ دیر بعد حراست میں لے لیا گیا۔
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے ایمان اور ہادی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے وکلا برادری سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں اور ان کی گرفتاری موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
صحافی مطیع اللہ جان نے ایکس پر لکھا ‘ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اگر بار کے عہدیداران ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو اپنی حفاظت میں بینچ اور انصاف تک رسائی نہیں دے سکے تو پھر وکلا برادری کے لیے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔’
صحافی ماریانا بابر نے ایکس پر لکھا ‘عدلیہ پھر ناکام ہو گئی۔ اپنے ہی قوانین کو پامال کرتے ہوئے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔’
خیال رہے چند روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے خلاف درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعظم خان نے اس مقدمے کی سماعت کی تھی۔ ملزمان کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے دلائل دیے کہ ’پہلی مرتبہ کسی خاتون نے ضمانت کے حصول کے لیے پوری رات اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزاری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نے ان کے مؤکلین کے خلاف پہلے سے مقدمہ درج کر رکھا تھا تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ انھیں پہلے ہی گرفتار کر لیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو اس مقدمے میں گرفتاری اسی وقت ہی کیوں یاد آئی جب متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کی طرف سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کالعدم قرار دے دیا۔
انھوں نے اس درخواست کی سماعت کرنے والے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ عدالت کے احاطے سے کسی کو گرفتار نہ کیا جائے۔
انھوں نے استدعا کی تھی کہ ان کے مؤکلین کو اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جائے اور پولیس کو یہ ہدایت کی جائے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو جب تک وہ مقدمہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک ان کے مؤکلین کو گرفتار نہ کیا جائے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سامنے جو مقدمہ ہے وہ اسی کی حد تک ہی احکامات جاری کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی دس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی۔
سماعت کے دوران وکلا کی ایک قابل ذکر تعداد کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔
پاکستان میں ریاستی رٹ کی مضبوطی
پاکستان کی عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ فیصلہ دیا کہ ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی ہر صورت میں قائم رہنی چاہیے، چاہے اس کا سامنا کسی بھی طاقتور فرد یا گروہ سے ہو۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے افراد کو کسی صورت میں رعایت نہیں دی جا سکتی، اور ان کے بیانات جو قومی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ بنیں، ان کا سخت نوٹس لیا جائے گا۔
پاکستان میں قانون کی بالا دستی کے اس فیصلے کو عوام نے خوش آمدید کہا ہے، کیونکہ یہ ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ ریاست اپنے مفادات، استحکام اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
بی ایل اے اور دہشت گردی کے خلاف سخت موقف
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور حکومت نے یہ عہد کیا ہے کہ جو بھی گروہ یا فرد ریاست کے خلاف نیریٹو چلائے گا یا دہشت گردوں کی حمایت کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہ جو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو متاثر کر رہے ہیں، ان کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں جاری ہیں، اور ان کے حامیوں کے خلاف بھی بھرپور قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اب دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کر رہا ہے اور ایسے افراد کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دے گا جو قومی سلامتی کے مفاد میں رکاوٹ ڈالیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے مقدمے کی اہمیت
اس مقدمے کا اثر صرف ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ پاکستان میں ریاستی اداروں کی بدنامی یا دہشت گردوں کی حمایت کرنے والی زبان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت اور عدلیہ کا یہ موقف ملک کے عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون سے بالا نہیں سمجھا جائے گا۔ اس کا مقصد نہ صرف موجودہ کیسز کو حل کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے افراد کو بھی ایک سبق سکھانا ہے جو دہشت گردوں کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہیں یا ان کی سہولتکاری کرتے ہیں۔
ایک نئے دور کی ابتدا
پاکستان میں اس فیصلے کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے جس میں قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ریاستی اداروں اور ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی شخص یا گروہ کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
یہ صرف ایک آغاز ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی اور فرد یا گروہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی طرح دہشت گردوں کے بیانیے کی حمایت کرتا ہے یا ان کی سہولتکاری کرتا ہے، تو وہ بھی قانون کی گرفت سے بچنے کا کوئی موقع نہیں پائے گا۔ پاکستان کے عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست کا استحکام، قومی مفاد اور سلامتی ہمیشہ اولین ترجیح ہیں، اور اس مقصد کے لیے کوئی بھی قدم اٹھایا جائے گا۔
اختتامیہ: قانون کی حکمرانی کا عہد
پاکستان میں اب کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا بھی طاقتور ہو، قانون سے بالاتر نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی ریاست نے اس فیصلے کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کی نظر میں برابر سمجھا جائے گا، اور جو بھی شخص قومی سلامتی کے خلاف کھڑا ہوگا، اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا مقدمہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت یا ان کے نیریٹو کو فروغ دینے کا ہرگز کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔
یہ ملک کی سالمیت، استحکام اور ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، اور اس فیصلے سے پاکستان میں ریاستی رٹ کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔







