پاکستاناہم خبریں

خیبر پختونخوا حکومت کی تیراہ پر گندی سیاست: سیاسی مفادات کی آڑ میں عوام کی تکلیف

تیراہ کے مشران اور عمائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے عارضی نقل مکانی بہترین حل ہو گا

فیکٹ شیٹ:

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں شدت پسند عناصر کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے مقامی آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان عناصر نے شہری آبادی کی آڑ میں دہشت گردی کی کارروائیاں اور جبر کا سلسلہ جاری رکھا تھا، جس سے علاقے میں امن و سکون کی فضا مکمل طور پر مفقود ہو چکی تھی۔ اس صورتحال کو قابو میں لانے اور عوام کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے فوری طور پر ایک آپریشن کی ضرورت تھی۔

آبادی سے کہا گیا کہ وہ یا تو ان دہشت گردوں کو اپنے درمیان سے نکال دیں یا عارضی طور پر علاقے کو چھوڑ دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بغیر کسی شہری نقصان کے علاقے میں کارروائی کر سکیں۔ اس فیصلے کو علاقے کے مشران، عمائدین، اور مقامی سرکاری نمائندوں کی موجودگی میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

عارضی نقل مکانی کا فیصلہ

تیراہ کے مشران اور عمائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقے میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے عارضی نقل مکانی بہترین حل ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد، آبادی کو حکومت کی نگرانی میں علاقے چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہاں آپریشن کر کے اسے دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکے۔ یہ اقدام مقامی لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری تھا، کیونکہ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی شہریوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی تھی۔

صوبائی حکومت کی بدنیتی

اگرچہ یہ فیصلہ مقامی مشران اور حکومتی نمائندوں کے درمیان طے پایا تھا، لیکن صوبائی حکومت نے جان بوجھ کر اس پر عملدرآمد میں تاخیر کی۔ اصل میں اس کارروائی کو سردیوں تک مؤخر کر دیا گیا، تاکہ ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے، جس میں حکومتی ناکامی کو کسی انسانی بحران کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس دوران، منشیات کے مافیا کو اپنی فصل بیچنے اور اگلی فصل کی تیاری کا مکمل موقع دیا گیا۔

31 دسمبر کو نقل مکانی کی منظوری

بالآخر 31 دسمبر کو خیبر پختونخوا حکومت نے تیراہ کی آبادی کی عارضی نقل مکانی کی منظوری دی اور اس مقصد کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے۔ اس فیصلے کے تحت، مقامی افراد کو 15 جنوری تک علاقے کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جانا تھا۔ لیکن یہاں بھی صوبائی حکومت کی انتظامی نااہلی نے عوام کو مزید مشکلات میں ڈال دیا۔

انتظامی رکاوٹیں اور بدنظمی

انتظامیہ نے جان بوجھ کر تیراہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر رجسٹریشن کاؤنٹرز اور عملے کی تعداد کو انتہائی محدود رکھا، جس کے نتیجے میں شدید بدنظمی پیدا ہوئی۔ لاکھوں افراد کو ایک ہی وقت میں نقل مکانی کے لیے رجسٹر کرانا تھا، اور عملے کی کمی کے باعث طویل قطاریں لگ گئیں۔ ان انتظامی رکاوٹوں کو بعد میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔ اس بدنظمی اور اذیت ناک مناظرات کو صوبائی حکومت کی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ کسی انسانی بحران کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی۔

سیاست کی آڑ میں منشیات کی معیشت کا تحفظ

یہ پورا معاملہ دراصل صوبائی حکومت کی سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کی ایک چال تھی۔ تیراہ میں منشیات کی پیداوار اور تجارت ایک اہم معاشی سرگرمی ہے، اور صوبائی حکومت کی اس تاخیر کے پیچھے دراصل اس کاروبار کو تحفظ دینا تھا۔ نقل مکانی کی اجازت اس وقت تک مؤخر رکھی گئی جب تک منشیات کی فصل کاٹ کر اس سے حاصل ہونے والے منافع کا پورا فائدہ نہ لے لیا گیا۔ جیسے ہی منشیات کا کاروبار مکمل ہوا، نقل مکانی کی اجازت دے دی گئی۔

پی ٹی آئی کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ

اب جب کہ اس انسانی بحران کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے آپ کو "مظلوم” دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ دو مہینے بعد، جب منشیات کی فصل اگا لی جائے گی، کچھ ہزار لوگوں کو لے کر تیراہ واپس جانے کے لیے فوجی پوسٹوں پر زبردستی چڑھائی کر دیں گے۔ یہ سب کچھ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے کیا جائے گا، اور عوامی مشکلات کو ایک سیاسی داستان میں تبدیل کیا جائے گا۔

فوج اور انتظامیہ کا کردار

ہم سب جانتے ہیں کہ عارضی نقل مکانی کے انتظامات کا مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس میں رجسٹریشن، کیمپوں کی بنیاد، خوراک کی فراہمی، صحت کی سہولتیں، معاوضہ اور لاجسٹک سپورٹ سب صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ فوج کے۔ فوج کا کردار صرف سیکیورٹی فراہم کرنے تک محدود ہوتا ہے، لیکن صوبائی حکومت نے یہ ناکامی فوج کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی۔

انسانیت اور سیاست کا ملاپ

یہ تمام صورتحال ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور صوبائی انتظامیہ نے عوامی تکالیف کو صرف اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ نقل مکانی کا عمل اور شہریوں کی حفاظت ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ عمل ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں اور جانی نقصان کو کم کرنا تھا۔ اس عمل کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنا صرف ایک فکری بددیانتی ہے اور اس کا مقصد عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔

اختتامیہ

یہ پورا معاملہ دراصل طرزِ حکمرانی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ صوبائی حکومت کی انتظامی ناکامی کو جذباتی نعروں کے پیچھے چھپایا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ صوبائی حکومت کے اپنے فیصلوں اور غفلت سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ یہ صرف ایک سیکیورٹی آپریشن نہیں تھا، بلکہ عوامی تحفظ اور جانی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔ اس کو ایک سیاسی بحران کے طور پر پیش کرنا اور اس پر غیر ضروری بحث کا آغاز کرنا ایک خطرناک کھیل ہے جو صرف عوام کی تکالیف میں اضافہ کرے گا۔

پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر اس معاملے کو ایک انسانی بحران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ صوبائی حکومت کی اپنی سیاسی چالوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوامی دکھاوے کے لیے سیاسی فائدہ اٹھانا بلکہ منشیات کی معیشت کے تحفظ کے لیے بھی اپنے مفادات کو بچانا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button