
اکرا (گھانا): پاکستان اور گھانا نے اپنی سفارتی اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پہلی مرتبہ دوطرفہ سیاسی مشاورت (Bilateral Political Consultations – BPC) کا انعقاد کیا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مشاورت 26 جنوری 2026 کو گھانا کے دارالحکومت اکرا میں منعقد ہوئی۔
اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت
پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ اور سفیر حامد اصغر خان نے کی، جبکہ گھانا کی جانب سے سفیر خدیجہ ادریسو، چیف ڈائریکٹر وزارت خارجہ، نے وفد کی قیادت کی۔ دونوں فریقین کے سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دو اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
مشاورت کے دوران پاکستان اور گھانا کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے دو اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔
پہلی مفاہمتی یادداشت دوطرفہ سیاسی مشاورت کے باضابطہ فریم ورک سے متعلق تھی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی رابطے کو فروغ دینا ہے۔
دوسری مفاہمتی یادداشت فارن سروس اکیڈمی، اسلام آباد اور گھانا فارن سروس انسٹی ٹیوٹ کے درمیان طے پائی، جس کے تحت سفارتی تربیت، تجربات کے تبادلے اور استعداد کار بڑھانے میں تعاون کیا جائے گا۔
تعاون کے وسیع تر شعبوں پر اتفاق
دونوں فریقین نے اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور ہمہ جہت بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیاسی تعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصادی، دفاعی، سیاحت، ثقافتی، صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر باہمی فائدہ مند شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
حکام کا کہنا تھا کہ ان شعبوں میں عملی اور منصوبہ جاتی تعاون دونوں ممالک کے عوام کے لیے براہ راست فوائد کا باعث بنے گا۔
اگلی مشاورت اسلام آباد میں ہو گی
دوطرفہ سیاسی مشاورت کے اختتام پر دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس مکالمے کا اگلا دور آئندہ سال پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو ادارہ جاتی مکالمے کے تسلسل اور تعلقات کی مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات
پاکستان اور گھانا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مسائل پر قریبی تعاون رکھتے ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق دوطرفہ سیاسی مشاورت کا باضابطہ آغاز ان تعلقات کو مزید منظم، بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مستقبل میں عملی اور منصوبہ جاتی تعاون کی توقع
دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی بات چیت کا یہ نیا عمل مستقبل میں مخصوص منصوبوں، تجارتی روابط، تعلیمی تبادلوں اور تکنیکی تعاون کو فروغ دے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور گھانا کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ افریقہ اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔



