
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان میں سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ایک سنگین قومی چیلنج بنتا جا رہا ہے اور اب اس کی زد میں ملک کے منتخب نمائندے بھی آ گئے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 11 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ آن لائن فراڈ، جعلسازی، ہراسانی اور بدنامی جیسے جرائم کا شکار ہو چکے ہیں۔
یہ انکشاف منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیش کی گئی این سی سی آئی اے کی رپورٹ میں سامنے آیا، جس میں ملک بھر میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں چونکا دینے والے انکشافات
این سی سی آئی اے کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے آن لائن فراڈ اور ہراسانی سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جعلسازوں نے ایک منظم طریقہ کار کے تحت بااثر شخصیات کے نام، تصاویر اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر کے فراڈ کی وارداتیں انجام دیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعات نہ صرف انفرادی مالی نقصان کا باعث بنے بلکہ عوامی اعتماد اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
اراکینِ پارلیمنٹ سے لاکھوں روپے ہتھیانے کے واقعات
این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا سے جعلسازوں نے چار لاکھ 90 ہزار روپے دھوکے سے ہتھیا لیے۔ اسی طرح سینیٹر فلک ناز سے شوکت خانم ہسپتال کے نام پر چار لاکھ 85 ہزار روپے آن لائن وصول کیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کا روپ دھار کر رقم وصول کی گئی، تاہم این سی سی آئی اے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا اور رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
گورنر کے نام پر فراڈ، سینیٹر بلال مندوخیل متاثر
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینیٹر بلال احمد مندوخیل سے بھی آن لائن فراڈ کے ذریعے رقم ہتھیائی گئی، جس میں گورنر کے نام کا استعمال کیا گیا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق اس کیس میں بھی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
جعلی سرمایہ کاری اسکیمیں اور جعلی آئی ڈیز
این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ سینیٹر پلوشہ خان سے آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کی گئی، جس کا مقدمہ اس وقت زیرِ تفتیش ہے۔
اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سید لال خان کے نام سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی بنا کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی، جسے سائبر کرائم ایجنسی نے بلاک کروا دیا۔
دیگر سینیٹرز اور ارکانِ اسمبلی بھی متاثر
رپورٹ کے مطابق ایک اور کیس میں سینیٹر نیاز احمد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ان کے جاننے والے فرد سے رقم ہتھیائی گئی، جس میں ملزمان کو گرفتار کر کے رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
فہرست میں شامل دیگر مقدمات میں رکنِ قومی اسمبلی راجہ خرم نواز کو آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ناز بلوچ کی جانب سے ہتکِ عزت کی شکایت درج کروائی گئی۔
سوشل میڈیا پر بدنامی اور ہراسانی کے واقعات
این سی سی آئی اے کے مطابق کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر دوستین ڈومکی کو سوشل میڈیا پر بدنامی اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا، جس پر سائبر کرائم ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
اسی طرح سینیٹر فیصل رحمان سے متعلق آن لائن ہراسانی کے دو الگ الگ معاملات پر انکوائریاں زیرِ غور لائی گئیں۔
معروف شخصیات کے نام استعمال کر کے فراڈ کا رجحان
این سی سی آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن مالی فراڈ کے متعدد مقدمات میں ملزمان نے معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کے نام استعمال کر کے شہریوں سے رقم بٹورنے کی کوشش کی۔ کچھ کیسز میں رقم کی برآمدگی ممکن ہو سکی، جبکہ چند مقدمات تاحال تفتیشی مراحل میں ہیں۔
سائبر سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات
اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات نے ملک میں سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل آگاہی اور آن لائن شناخت کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات، قانون سازی اور عوامی آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیا۔
این سی سی آئی اے کا مؤقف
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور اراکینِ پارلیمنٹ سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید تکنیکی وسائل اور قانونی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر عوام اور بالخصوص بااثر شخصیات کو بھی محتاط رہنے اور مشکوک آن لائن سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔



