
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پالتو شیروں کے حملے: خوف، سوالات اور حکومتی کریک ڈاؤن
حکومت کو نجی طور پر شیروں اور دیگر بڑے جنگلی درندوں کو رکھنے کے معاملے پر سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
صوبہ پنجاب میں حالیہ دنوں پالتو شیروں کے حملوں کے دو سنگین واقعات نے نہ صرف شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے بلکہ حکومت کو بھی نجی طور پر شیروں اور دیگر بڑے جنگلی درندوں کو رکھنے کے معاملے پر سخت فیصلے لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور کے علاقوں نواں کوٹ اور سبزہ زار میں شیر کے حملے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے، جن میں شہری زخمی ہوئے۔ ابتدا میں یہ تاثر پایا جاتا رہا کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے، تاہم بعدازاں تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ دو مختلف مقامات پر پیش آنے والے الگ واقعات تھے۔
آبادی والے علاقوں میں درندوں کی موجودگی پر سنگین سوالات
ان واقعات کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر گنجان آبادی والے شہری علاقوں میں اتنے خطرناک جنگلی جانوروں کو رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے جانور نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود ان کی فطری زندگی کے لیے بھی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ: تمام اجازت نامے منسوخ
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں شیروں اور دیگر بڑے جنگلی درندوں کو نجی طور پر رکھنے کے تمام اجازت نامے منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قانون میں ضروری ترامیم کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
ماضی کا قانون اور اس پر عملدرآمد کی ناکامی
پنجاب میں اس سے قبل وائلڈ لائف پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ بڑے جنگلی جانور رکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ ان شرائط میں:
مناسب اور کشادہ جگہ
حفاظتی انتظامات
محکمہ جنگلی حیات کی باقاعدہ اجازت
شامل تھیں، تاہم عملی طور پر ان ضوابط کی خلاف ورزیاں عام تھیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا۔
پنجاب میں 500 سے زائد شیر نجی تحویل میں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں نجی افراد کے پاس 500 سے زائد شیر اور دیگر بڑے درندے موجود ہیں، جن میں سے کئی غیر قانونی یا نیم قانونی طور پر رکھے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر شیر پالنے کا رجحان ایک اسٹیٹس سمبل بنتا جا رہا تھا، جس نے اس خطرناک رجحان کو مزید فروغ دیا۔
کریک ڈاؤن تیز: درجنوں شیر ضبط، فارمز سیل
پابندی کے فیصلے کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اب تک:
59 بگ کیٹس ضبط کی جا چکی ہیں
لاہور ڈویژن سے 20 شیر
جہلم سے 23 بگ کیٹس (14 ببر شیر، 4 شیر، 5 ٹائیگرز)
ملتان سے 9 شیر
گوجرانوالہ سے 3
سیالکوٹ سے 2
فیصل آباد سے 2 شیر
کریک ڈاؤن کے دوران 8 سے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، متعدد نجی فارمز سیل کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر مقدمات درج کیے گئے۔
ضبط شدہ جانور لاہور سفاری پارک منتقل
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ضبط کیے گئے تمام جانوروں کو لاہور سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کے مستقبل کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم فی الحال ان کی حفاظت اور مناسب دیکھ بھال محکمے کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین کی رائے: کاغذی قانون، زمینی حقائق مختلف
جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ناصر علی کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون کے تحت شیر کے ایک جوڑے کو رکھنے کے لیے کم از کم 22 مرلے جگہ درکار ہوتی ہے، جو ایک کنال سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
ان کے مطابق:
"کاروبار کرنے والے لوگ کاغذوں میں تمام تقاضے پورے دکھاتے ہیں لیکن زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ شیر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پبلک ٹرانسپورٹ پر منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔”
وزیر اطلاعات کا مؤقف: سخت نگرانی اور قانون پر عملدرآمد
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ:
"عوامی تحفظ اور جنگلی حیات کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ پابندی کے مؤثر نفاذ کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت عملدرآمد کیا جائے گا، تاکہ کوئی بھی شہری خفیہ طور پر ایسے خطرناک جانور نہ رکھ سکے۔”
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو قانون میں مزید تبدیلیاں بھی کی جائیں گی، تاہم اس وقت توجہ موجودہ قانون پر سختی سے عملدرآمد پر ہے۔
نتیجہ: انسانی جانیں بھی اور جنگلی حیات بھی خطرے میں
حالیہ واقعات نے یہ حقیقت بے نقاب کر دی ہے کہ نجی طور پر شیر اور دیگر بڑے درندے رکھنا نہ صرف شہریوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود ان جانوروں کے ساتھ بھی ظلم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں، فیکٹریوں یا تنگ نجی فارمز میں قید رکھنا ان کی فطری زندگی کے سراسر منافی ہے۔
حکومتی اقدامات اگر مستقل اور سخت رہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے گا اور جنگلی حیات کو اس کا قدرتی حق مل سکے گا۔



