
سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ
چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کو آپریشنز، سیکیورٹی، مسافر سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود اور کمیٹی کے رکن سینیٹر عطاالرحمان درویش نے آج اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں ایئرپورٹ آپریشنز، سیکیورٹی انتظامات، مسافر سہولیات، کمرشل ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔
ایئرپورٹ کے اسٹیٹ لاؤنج پہنچنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) صادق الرحمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) لقمان رشید نے چیئرمین کمیٹی اور سینیٹر عطاالرحمان درویش کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایئرپورٹ سروسز، چیف آپریٹنگ آفیسر/ایئرپورٹ مینیجر اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
پی اے اے آپریشنز اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر بریفنگ
اسٹیٹ لاؤنج میں منعقدہ بریفنگ کے دوران ڈپٹی ڈی جی پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے پی اے اے کے مجموعی آپریشنز، ایئرپورٹس انفراسٹرکچر کی ترقی، انتظامی ڈھانچے اور جاری و مجوزہ بڑے منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کا پہلا گرین فیلڈ ایئرپورٹ ہے جو مئی 2018 میں تعمیر کیا گیا۔

ایئرپورٹ اس وقت سالانہ 90 لاکھ مسافروں اور ایک لاکھ میٹرک ٹن کارگو کی گنجائش رکھتا ہے جبکہ مستقبل میں توسیع کے بعد اس گنجائش کو 2 کروڑ 50 لاکھ مسافروں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ریگولیٹری اور سیفٹی بریفنگ
ڈپٹی ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی لقمان رشید نے ریگولیٹری امور، بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے مقرر کردہ معیار و ضوابط، اور ایوی ایشن سیفٹی و سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ عالمی معیار کے مطابق آپریٹ کیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی کے تمام تقاضے مکمل طور پر پورے کیے جا رہے ہیں۔

مسافروں کے لیے جدید سہولیات اور ڈیجیٹل سروسز
چیف آپریٹنگ آفیسر/ایئرپورٹ مینیجر نے مسافروں کی سہولت کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں ڈیجیٹل لوسٹ اینڈ فاؤنڈ سسٹم، کیش لیس ٹرانزیکشنز، کیو آر کوڈ کے ذریعے شکایات کے اندراج اور فوری حل کا نظام شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سفارت کاروں اور بزنس کلاس مسافروں کے لیے فاسٹ ٹریک سروسز، موبائل چارجنگ پوائنٹس، مفت وائی فائی، مساجد، جدید بیگیج ہینڈلنگ سسٹم اور آرام دہ ویٹنگ ایریاز فراہم کیے گئے ہیں۔ ماحول دوست اقدامات کے تحت رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم (کسانہ ڈیم زیر تعمیر)، ایل ای ڈی لائٹنگ اور الیکٹرک ایئر سائیڈ وہیکلز متعارف کروائے گئے ہیں۔

کمرشل پوٹینشل اور نان ایئروناٹیکل ریونیو میں اضافہ
ڈائریکٹر کمرشل نے ایئرپورٹ کے کمرشل امکانات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نان ایئروناٹیکل ریونیو میں اضافے کے لیے متعدد منصوبے زیر عمل ہیں، جن میں ڈیوٹی فری شاپس، فوڈ آؤٹ لیٹس، برانڈڈ آٹوموبائل ڈسپلے اسپیسز، ریسٹورنٹس، کار پارکنگ آٹومیشن، مووی تھیٹرز، گیمنگ زونز اور سی آئی پی لاؤنجز کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔
مسافر شکایات کے فوری حل اور عالمی درجہ بندی
انتظامیہ نے آگاہ کیا کہ مسافروں کی شکایات جیسے نماز کی جگہ، صفائی، واش رومز اور چھتوں سے رساو کے مسائل پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ سال 2025 کے دوران پی ایم ڈی یو کی تمام 41 شکایات مکمل طور پر حل کی گئیں۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایشیائی ایئرپورٹس میں اسکائی ٹریکس کی 3 اسٹار ریٹنگ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سیکیورٹی انتظامات اور اے ایس ایف کے ساتھ کوآرڈینیشن
ڈائریکٹر سیکیورٹی نے ایئرپورٹ پر نافذ سیکیورٹی اقدامات، جدید اسکریننگ سسٹمز اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ساتھ بہترین رابطہ کاری پر بریفنگ دی اور بتایا کہ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ایئرپورٹ کے مختلف حصوں کا معائنہ
بریفنگ کے بعد سینیٹر طلحہ محمود اور سینیٹر عطاالرحمان درویش نے ایئرپورٹ کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں امیگریشن کاؤنٹرز، کمرشل ایریاز، ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور، فائر اسٹیشن اور دیگر اہم تنصیبات شامل تھیں۔
سینیٹر طلحہ محمود کی پی اے اے کی کارکردگی کی تعریف
دورے کے اختتام پر سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسافر سہولیات، شکایات کے مؤثر حل، جدید انفراسٹرکچر، اعلیٰ سیکیورٹی انتظامات اور کمرشل ترقی کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات قومی سول ایوی ایشن کی ترقی اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہیں۔ پی اے اے کی جانب سے مسلسل بہتری، پائیداری اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو عالمی معیار کا ایئرپورٹ بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔



