یورپاہم خبریں

یورپ کو سیاست میں غالب قوت بن کر اُبھرنا ہوگا، میرس

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2001 میں افغانستان پر حملے کے دوران امریکہ کو نیٹو کی  کسی مدد کی ''ضرورت نہیں تھی۔‘‘

ڈی پی اے کے ساتھ

جرمن چانسلر فریڈرِش میرس نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس حالیہ متنازعہ بیان کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ٹرمپ نے افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار کو کم کرکے پیش کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 2001ء میں افغانستان پر حملے کے دوران امریکہ کو کبھی بھینیٹو کی معاونت کی ‘ضرورت‘ محسوس نہیں  ہوئی۔  یہ کارروائی 11 ستمبر کے حملوں کے جواب میں طالبان حکومت کو ہٹانے کے لیے کی گئی تھی۔

ٹرمپ کے بیانات کا پس منظر

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2001 میں افغانستان پر حملے کے دوران امریکہ کو نیٹو کی  کسی مدد کی ”ضرورت نہیں تھی۔‘‘

 ڈونلڈ ٹرمپ اگر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے الگ ہو گئے تو کیا ہو گا؟

مزید برآں فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ چند یورپی ممالک نے افغانستان میں افواج تو بھیجیں لیکن وہ ”فرنٹ لائن سے کچھ پیچھے رہیں۔‘‘

یہ بیانات نیٹو مشن Enduring Freedom اور بعد ازاں ISAF کے تحت افغانستان میں اتحادی افواج کے کردار کے عمومی تصور کے خلاف ہیں، جہاں مختلف ممالک، بشمول جرمنی نے عملی اور عسکری شرکت کی۔

2025: شرم الشیخ امن اجلاس کے آغاز سے پہلے جرمن چانسلر میرس اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 2001 میں افغانستان پر حملے کے دوران امریکہ کو نیٹو کی کسی مدد کی ’’ضرورت نہیں تھی۔‘‘تصویر: Eliot Blondet/ABACAPRESS/IMAGO

چانسلر فریڈرِش میرس کا ردِعمل

اپنے پارلیمانی خطاب میں میرس نے  ٹرمپ  کے دعوؤں کو ”غیر منصفانہ اور (نیٹو پارٹنرز) کم تر دکھانے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”آج، ہم اس مشن کو  کمتر دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے، جو ہم نے اپنے اتحادی امریکہ کے مفاد میں بھی انجام دیا تھا۔‘‘

میرس نے اس موقع پر افغانستان میں جرمن افواج کی قربانیوں  کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا، ”59 جرمن فوجی افغانستان میں ہلاک ہوئے جبکہ  100 سے زائد فوجی شدید زخمی ہوئے۔‘‘

میرس نے کہا کہ ان قربانیوں کو کسی بھی طرح کم تر نہیں سمجھا جاسکتا۔

جرمن افواج کی خدمات کا اعتراف

چانسلر میرس نے جرمن فوجیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، ”میں جرمن فوجیوں سے یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی خدمات ہمیشہ قیمتی رہی ہیں اور رہیں گی۔ یہ خدمات ہماری آزادی اور دنیا کے امن کے لیے ہیں۔‘‘

کوئٹہ کی ’نیٹو مارکیٹ‘

انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں جرمنی کی طویل شمولیت نے ملک میں کئی برسوں تک استحکام اور سلامتی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اتحادی تعلقات کی اہمیت

چانسلر میرس نے خبردار کیا کہ  بین الاقوامی اتحاد، خاص طور پر نیٹو جیسے ادارے، کو غیرسنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ” ٹرانس-اٹلانٹک اتحاد اور باہمی اعتماد آج بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، خصوصاً جرمنی کے لیے۔‘‘

افغانستان فیض آباد 2008 | جرمن فوج کا سپاہی گشت پر افغان مردوں کا مشاہدہ کر رہا ہے
جرمن چانسلر نے زور دیا کہ افغانستان میں جرمنی کی طویل شمولیت نے ملک میں کئی برسوں تک استحکام اور سلامتی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیاتصویر: Anja Niedringhaus/AP/picture alliance

یہ بیان امریکی–جرمن تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں آیا ہے، جہاں مختلف سیاسی بیانات سے ان ممالک کے باہمی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

میرس نے کہا،” 11 ستمبر کے حملوں کے جواب میں شروع کیا گیا نیٹو مشن ‘اینڈیورنگ فریڈم’ میں شمولیت کے ذریعے جرمنی نے بھی افغانستان میں ‘کئی برسوں تک زیادہ استحکام اور  سکیورٹی‘ فراہم کی ہے۔‘‘

‘یورپ کو سیاست میں غالب قوت بن کر اُبھرنا ہوگا‘

جرمن چانسلر فریڈرِش میرس نے کہا ہے کہ یورپ کو ایک ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا، جس کے ذریعے وہ دوبارہ ایک غالب قوت بن سکے تاکہ وہ چند طاقتور ممالک کے زیرِ اثر ابھرتی ہوئی عالمی ترتیب میں اپنا مؤثر مقام بنا سکے۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے وفاقی جمہوریہ جرمنی میں ایوان زیریں میں خطاب کے دوران مزید کہا کہ یورپ اپنے نظریات تبھی آگے بڑھا سکے گا، جب وہ طاقت کی سیاست میں بات کرنا سیکھ لے گا۔

 15 اگست 2023: طالبان کے سکیورٹی اہلکار قندھار میں اپنے قبضے کی دوسری سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے فوجی ٹرک کے اوپر بیٹھے ہیں
میرس نے افغانستان میں جرمن افواج کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’59 جرمن فوجی افغانستان میں ہلاک ہوئے جبکہ 100 سے زائد فوجی شدید زخمی ہوئے‘‘تصویر: Sanaullah Seiam/AFP

میرس کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں یورپ وہ سیاسی قوت رہا ہے، جو ریاستوں اور اقوام کے درمیان تعلقات کی بنیاد کے طور پر قانون کی حکمرانی پر زور دیتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم اس سب کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں بھی اس کا دفاع کرتے رہیں گے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے میرس نے یورپی نیٹو اتحادیوں کے متحد ردِعمل کی تعریف کی۔

افغان امن عمل: پاکستان کے لیے چیلنجز

یورپی ممالک کی جانب سے جوابی محصولات کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے اس تنازعے میں محصولات عائد کرنے یا ڈنمارک کی ملکیت والے اس خطے کو طاقت کے زور پر حاصل کرنے کی دھمکی سے پس قدمی اختیار کرلی تھی۔

میرس نے کہا کہ اس تجربے نے یورپیوں کو کچھ دیر کے لیے ”خود داری کی خوشی‘‘ کا احساس دلایا، اور مزید کہا کہ اس ” اس نئی خوداعتمادی‘‘ کو اب آئندہ مسائل سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button