بین الاقوامیاہم خبریں

چین کے ساتھ بہتر تعلقات برطانوی حکومت کی ترجیح کیوں بنے؟

دونوں ممالک کے تعلقات میں ماضی میں ’’اتار چڑھاؤ‘‘ آتے رہے ہیں، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھے

برطانیہ کی نئی حکومت نے عالمی سفارتی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو استوار کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کے روز بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ لندن سلامتی اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے چین کے ساتھ ’’باہمی احترام پر مبنی، میچور اور ماڈرن نوعیت کے تعلقات‘‘ چاہتا ہے۔

یہ ملاقات چین کے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران ہوئی، جس میں وزیر اعظم اسٹارمر نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ باضابطہ سربراہی ملاقات اور ظہرانے کے دوران تقریباً تین گھنٹے گزارے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نہ صرف عالمی سیاست اور معاشی تعاون پر گفتگو ہوئی بلکہ فٹ بال اور شیکسپیئر جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے، جسے سفارتی حلقوں میں برف پگھلانے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

کشیدہ ماضی، نئی شروعات

برطانیہ اور چین کے تعلقات گزشتہ چند برسوں سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ہانگ کانگ، انسانی حقوق، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اختلافات نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کیا۔ تاہم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ’’چین عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا تعلق قائم کریں جس میں تعاون کے مواقع بھی ہوں اور اختلافات پر بامعنی مکالمہ بھی۔‘‘

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اس موقع پر اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ماضی میں ’’اتار چڑھاؤ‘‘ آتے رہے ہیں، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین برطانیہ کے ساتھ ایک طویل المدتی اور مستحکم شراکت داری کے فروغ کے لیے تیار ہے۔

معاشی وجوہات: چین ایک ناگزیر شراکت دار

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سب سے بڑی وجہ معاشی ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور عالمی تجارت میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ، جو بریگزٹ کے بعد نئی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہا ہے، چین کو ایک اہم معاشی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اسی مقصد کے تحت وزیر اعظم اسٹارمر پچاس سے زائد برطانوی کاروباری شخصیات کے ہمراہ چین پہنچے تھے۔ ان کاروباری رہنماؤں کا تعلق توانائی، ٹیکنالوجی، فنانس اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔ برطانوی حکومت کی خواہش ہے کہ چینی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے اور برطانوی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے۔

عالمی سیاست اور امریکہ کا کردار

اسٹارمر کا چین کا دورہ مغربی رہنماؤں کی اس تازہ سفارتی سرگرمی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت چین کے ساتھ روابط کو محتاط انداز میں دوبارہ استوار کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی غیر یقینی خارجہ پالیسی بتائی جا رہی ہے، خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اختیار کیے گئے سخت اور بعض اوقات غیر متوقع فیصلے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات لگانے کی دھمکیاں، نیٹو اتحادیوں پر دباؤ اور حتیٰ کہ ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے جیسے بیانات نے یورپی ممالک اور برطانیہ کو بھی تشویش میں مبتلا کیا۔ ان حالات میں برطانیہ یہ سمجھتا ہے کہ صرف امریکہ پر انحصار کرنا ایک خطرناک حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، لہٰذا عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات ضروری ہیں۔

محتاط تعاون، مکمل اعتماد نہیں

اگرچہ برطانوی حکومت چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہاں ہے، تاہم حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ تعاون ’’اندھا دھند‘‘ نہیں ہو گا۔ انسانی حقوق، قومی سلامتی اور حساس ٹیکنالوجی جیسے معاملات پر برطانیہ اپنے تحفظات برقرار رکھے گا۔ اسٹارمر کے مطابق، میچور تعلق کا مطلب یہی ہے کہ اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی بات چیت اور تعاون کا راستہ کھلا رکھا جائے۔

نتیجہ

چین کے ساتھ بہتر تعلقات برطانوی حکومت کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست، معاشی دباؤ، اور امریکہ کی غیر یقینی پالیسیوں کے تناظر میں لندن ایک زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ کیئر اسٹارمر کا دورہ چین اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو آنے والے برسوں میں برطانیہ کی عالمی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button