پاکستاناہم خبریں

دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے گھیرے میں لیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،آئی ایس پی آر کے ساتھ

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں جمعرات کے روز ضلع ہرنائی اور ضلع پنجگور میں کی گئیں۔


ضلع ہرنائی میں بڑا آپریشن فتنہ الخوارج 30 شدت پسند مارے گئے

آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے گھیرے میں لیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 30 شدت پسند مارے گئے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔

پنجگور میں دہشت گردوں کا دوسرا ٹھکانہ تباہ 11 دہشت گرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع پنجگور میں کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کے ایک اور خفیہ ٹھکانے کی نشاندہی ہوئی تھی۔
سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 انڈین سرپرست دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ وہ رقم بھی برآمد ہوئی جو 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی کے دوران لوٹی گئی تھی۔

مزید دہشت گردوں کی تلاش کا عمل تیز

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں علاقوں میں کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے

فوج کے ترجمان کے مطابق ہلاک کیے گئے تمام دہشت گرد ماضی میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔


بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی کا شکار صوبہ

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، جو ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے، کئی دہائیوں سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز نے صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔


عزمِ استحکام غیر ملکی سرپرستی میں دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشت گردی کی مہم پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کے تمام نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button