
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعظم آفس کے ساتھ
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے برآمد کنندگان کیلئے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد، بجلی کے ٹیرف میں مزید 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی اور ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نمایاں کارکردگی دکھانے والے بڑے برآمد کنندگان کو دو سال کیلئے بلیو پاسپورٹس اور ایمبیسیڈر ایٹ لارج کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
وزیر اعظم نے یہ اعلانات جمعہ کے روز ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔
اعلیٰ سطحی تقریب، وفاقی کابینہ اور کاروباری قیادت کی شرکت
تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، عطا اللہ تارڑ، جام کمال، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، مصدق ملک، عبدالعلیم خان، حنیف عباسی سمیت وفاقی وزرا، معاونین خصوصی، مشیران اور ملک کی ممتاز کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
وزیر اعظم نے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کو سال 2024 اور 2025 کی کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈز بھی دیے۔
برآمد کنندگان کو خراجِ تحسین
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھر سے آئے مایہ ناز کاروباری رہنماؤں کو خوش آمدید کہتے ہیں جنہوں نے شبانہ روز محنت کر کے ملک کا نام روشن کیا اور قومی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان نے انتہائی مشکل حالات میں غیرمتزلزل محنت کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں اربوں ڈالر آئے اور پوری قوم ان کی شکر گزار ہے۔
معیشت: دیوالیہ پن سے استحکام تک
وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی قریب میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جاتی تھیں اور حکومت سنبھالتے وقت ملکی معیشت شدید بحران کا شکار تھی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم حکومت کی کوششوں سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا جبکہ سازشی عناصر کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو یقین دلایا گیا کہ کیے گئے وعدے پورے ہوں گے، اگرچہ اس دوران عوام اور کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہی قربانیوں کے نتیجے میں آج پاکستان مستحکم معیشت سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے۔
مہنگائی، پالیسی ریٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر
وزیر اعظم کے مطابق:
مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی آ رہی ہے
پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے
فارن ایکسچینج ریزروز دوگنا ہو چکے ہیں
انہوں نے چین، سعودی عرب، یو اے ای اور قطر سمیت دوست ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
قرضوں سے نجات اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر
وزیر اعظم نے کہا کہ قرضوں پر انحصار ملک کیلئے مشکلات پیدا کرتا ہے، اس لیے صرف معیشت کا مستحکم ہونا کافی نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری پر قابو پانا اور برآمدات میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے سوا پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
کاروباری طبقے کو مشاورت میں شامل کیا
وزیر اعظم نے کہا کہ کاروباری طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں، اسی لیے انہیں پالیسی سازی میں شامل کیا گیا، نجی شعبے کی سربراہی میں 9 ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئیں جن کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے کیے گئے۔
معرکۂ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا مقام
وزیر اعظم نے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد دنیا میں پاکستان کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایسی شکست دی گئی ہے جو اس کی نسلیں یاد رکھیں گی اور اب دنیا ہمیں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی دوروں کے دوران دیکھا کہ جو سربراہان پہلے سلام لینے سے کتراتے تھے، اب بغلگیر ہوتے ہیں اور سرمایہ کاری کیلئے رابطے کر رہے ہیں۔
بجلی، ٹیکس اور ری فنانسنگ میں بڑے فیصلے
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ:
صنعت کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ مزید کمی
ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی
برآمد کنندگان کیلئے ٹیکس کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد
ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم 7.5 سے کم کرکے 4.5 فیصد
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کیلئے 1052 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جن میں سے 900 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں۔
چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے قرضوں پر زور
وزیر اعظم نے بینکوں کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بھی قرضوں کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ برآمدات کا دائرہ وسیع ہو۔
سرکاری اخراجات میں کمی اور اصلاحات
وزیر اعظم نے بتایا کہ:
پی ڈبلیو ڈی، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاسکو کو ناقص کارکردگی اور کرپشن پر بند کیا گیا
ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رمضان پیکیج کے تحت 16 ارب روپے مستحقین کو دیے گئے
رواں سال 40 ارب روپے سفید پوش طبقے میں ڈیجیٹل ادائیگی سے تقسیم کیے جائیں گے
ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی
وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ صارفین سے وصول کیے گئے ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہ کرانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ شوگر ملز سے 50 ارب روپے کی ریکوری کی گئی، سرحدوں پر اسمگلنگ بند ہوئی اور ریونیو میں اضافہ ہوا، جس میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔
وزرا کی کارکردگی کو خراجِ تحسین
وزیر اعظم نے کابینہ کے تمام ارکان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے آئی ٹی، توانائی، خزانہ، ریلوے، زراعت، بحری امور اور سفارتی محاذ پر وزرا کی انفرادی کاوشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت مل کر ملکی ترقی کیلئے کام کر رہی ہے۔
نمایاں برآمد کنندگان کو ایوارڈز
تقریب کے دوران لکی ٹیکسٹائل، الکرم ٹیکسٹائل، سفائر، صوفی انڈسٹریز، نوا ٹیکسٹائل، آصف رائس ملز، غریب سنز، ڈائمنڈ فیبرکس، ریاض ٹیکسٹائل، سٹائل ٹیکسٹائل سمیت دیگر نمایاں برآمد کنندگان کو ایوارڈز دیے گئے۔
نتیجہ
وزیر اعظم کے ان اعلانات کو برآمدی شعبے کیلئے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ بلکہ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔



