
دو روزہ آپریشن میں 108 دہشت گرد ہلاک، 42 سیکیورٹی اہلکار، خواتین اور بچے جاں بحق،بی ایل اے کی ذمہ داری قبول ،ان کارروائیوں کو ’ہیروف 2‘ کا نام دیا
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں ہونے والے ان حملوں میں 42 سویلین اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ
بلوچستان گزشتہ دو روز کے دوران بدترین بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جہاں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے صوبے بھر میں بیک وقت کیے گئے منظم حملوں کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ ان کارروائیوں میں 108 دہشت گرد مارے گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں، خواتین اور بچوں سمیت 42 افراد جاں بحق ہو گئے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مربوط حملوں کے بعد کم از کم 67 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ بعد ازاں جاری آپریشنز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 108 تک جا پہنچی۔
فتنہ الہندستان کے 12 مقامات پر حملے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورک ’فتنہ الہندستان‘ نے بلوچستان بھر میں کم از کم 12 مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے، جنہیں بروقت انٹیلی جنس اور فوری جوابی کارروائی کے باعث ناکام بنا دیا گیا۔
مختلف سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں ہونے والے ان حملوں میں 42 سویلین اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
بی ایل اے کی ذمہ داری قبول
بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو ’ہیروف 2‘ کا نام دیا ہے۔ یہ تنظیم اس سے قبل اگست 2024 میں بھی اسی طرز کے بیک وقت حملے کر چکی ہے جن میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم کوئٹہ میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا اور منظم حملہ تھا۔
کوئٹہ: دارالحکومت میدانِ جنگ بن گیا
حکام کے مطابق دارالحکومت کوئٹہ میں حملوں کا آغاز ہفتے کی صبح تقریباً چھ بجے ہوا جب درجنوں مسلح افراد نے بیک وقت پولیس تھانوں، ایف سی چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
سریاب روڈ، میاں غنڈی، مستونگ روڈ اور سریاب کسٹم سمیت بلوچ اکثریتی علاقوں میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے شہری نیند سے جاگ اٹھے۔ ابتدائی حملوں کے بعد دہشت گردی کا دائرہ زرغون روڈ، ریڈ زون، ریلوے اسٹیشن اور دیگر حساس علاقوں تک پھیل گیا۔
پولیس موبائل نذر آتش، اہلکار شہید
سریاب تھانے کے قریب گشت پر مامور پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور اس میں سوار دو پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ چھاؤنی اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے جبکہ گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سول سیکریٹریٹ اور دیگر حساس عمارتوں کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی۔
خودکش گاڑی دھماکہ
ساڑھے نو بجے کے قریب زرغون روڈ پر ہاکی چوک کے مقام پر بارود سے بھری گاڑی گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے پر ٹکرا دی گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ سول ہسپتال، سول سیکریٹریٹ اور دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بینکوں، جیلوں اور سرکاری دفاتر پر حملے
مشرقی بائی پاس، ہزار گنجی اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں نے پانچ بینکوں، پولیس تھانوں، جیلوں اور جوڈیشل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا۔ نوشکی اور مستونگ میں جیلوں پر حملوں کے نتیجے میں درجنوں قیدی فرار ہو گئے جبکہ سرکاری ریکارڈ کو نذر آتش کر دیا گیا۔
گوادر میں یرغمالی ڈرامہ
گوادر میں لیبر کالونی اور تحصیل پسنی میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی کیمپوں کو نشانہ بنایا اور خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد مزدوروں کو یرغمال بنا لیا۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں خاتون سمیت متعدد دہشت گرد مارے گئے اور تمام یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا گیا، تاہم فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔
صوبے بھر میں خوف و ہراس
مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، کیچ، خضدار، چاغی، لسبیلہ اور کچھی میں بھی حملے رپورٹ ہوئے۔ کوئٹہ میں بازار بند، سڑکیں سنسان اور شہری گھروں میں محصور رہے۔ فضاؤں میں ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پرواز جاری رہی۔
ٹرین اور شاہراہیں بند
سیکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان میں ٹرین سروس مکمل طور پر معطل کر دی گئی جبکہ کوئٹہ کو کراچی، سکھر، ڈی جی خان اور تفتان سے ملانے والی قومی شاہراہیں بند ہونے کے باعث ہزاروں مسافر شدید سردی میں پھنس گئے۔
وزیر اطلاعات کا ردعمل
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حملوں کو دہشت گردوں کی جانب سے "ایک مایوس کن اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کو شکست دینے کے قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس تھیں اور دہشت گردوں کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اعلیٰ حکام کا کوئٹہ دورہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر اور آئی جی پولیس نے کوئٹہ کا دورہ کیا، جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔






