
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،آئی ایس پی آر کے ساتھ
9ویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (Pakistan Army Team Spirit – PATS) مقابلے 2026 کی افتتاحی تقریب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (NCTC) پبی میں منعقد ہوئی۔ اس اہم بین الاقوامی فوجی ایونٹ کا بنیادی مقصد دوست ممالک کی افواج کے دستوں کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون، باہمی اعتماد اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی تقریب اور 60 گھنٹے طویل گشتی مشق کا آغاز
افتتاحی تقریب میں ایک سینئر فوجی افسر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے دوران 60 گھنٹے پر مشتمل سخت اور مسلسل گشتی مشق (Endurance Patrol Exercise) کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس میں شریک ٹیمیں جسمانی برداشت، ذہنی دباؤ اور عملی فوجی مہارتوں کا مظاہرہ کریں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر افسر نے کہا کہ پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلہ پیشہ ورانہ عسکری مہارت، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
19 دوست ممالک کی 24 بین الاقوامی ٹیموں کی شرکت
اس سال کے مقابلے میں 19 دوست ممالک کی مجموعی طور پر 24 بین الاقوامی ٹیمیں اور فوجی مبصرین حصہ لے رہے ہیں، جو اس مشق کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور اعتماد کا ثبوت ہے۔
شرکت کرنے والے ممالک میں بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن، مملکت سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ازبکستان شامل ہیں۔
مبصر ممالک کی شمولیت
اس کے علاوہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ اس مشق میں بطور مبصر شریک ہیں، جو مستقبل میں اس بین الاقوامی فوجی مقابلے میں شمولیت کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی روابط میں دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی افواج کی بھرپور نمائندگی
مشق میں پاک فوج اور پاک بحریہ کی 16 ملکی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ پاک فضائیہ کے افسران بطور مبصر مشق کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس مشترکہ شمولیت کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔
PATS: پیشہ ورانہ، ٹاسک پر مبنی عسکری مشق
پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ ایک مشن کے لیے مخصوص اور ٹاسک پر مبنی پیشہ ورانہ فوجی مشق ہے، جو پاکستان میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔ اس مشق میں شریک ٹیموں کو قریب قریب حقیقی آپریشنل ماحول میں پیچیدہ اور چیلنجنگ ذیلی حکمتِ عملی کے مشنز انجام دینے ہوتے ہیں، جہاں تیز رفتار فیصلہ سازی، درست منصوبہ بندی اور ٹیم ورک کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
جسمانی، ذہنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا امتحان
مشق جسمانی تندرستی، ذہنی لچک، برداشت اور اعلیٰ فوجی مہارت کے معیاروں کا تقاضا کرتی ہے۔ شرکاء کو دشوار گزار علاقوں میں طویل گشت، محدود وسائل کے ساتھ مشنز کی تکمیل اور غیر متوقع حالات میں فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، جو انہیں حقیقی جنگی حالات کے لیے بہتر طور پر تیار کرتا ہے۔
ٹیم اسپرٹ اور باہمی تعاون کا فروغ
اس مشق کا بنیادی مقصد ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید عسکری نظریات، حربی مہارتوں اور بہترین طریقہ کار کے باہمی تبادلے کے ذریعے شریک افواج کے درمیان تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو بڑھانا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔
علاقائی اور عالمی سطح پر دفاعی تعاون کی علامت
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلہ نہ صرف پاکستان کی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ ہے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف ممالک کی افواج کی مشترکہ شرکت باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں مشترکہ تربیتی و آپریشنل مواقع پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اختتامی کلمات
افتتاحی تقریب کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ 9واں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلہ 2026 دوست ممالک کی افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط کو مزید مستحکم کرے گا اور مشترکہ تربیت کے ذریعے عالمی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گا۔



