بین الاقوامیاہم خبریں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت،سپانسرز کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

ان حملوں کے ذمہ دار مجرموں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو ہر حال میں جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

سید مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

یہ بیان سلامتی کونسل کے موجودہ صدر جیمز کاریوکی کی جانب سے کونسل کی طرف سے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے تمام اراکین 31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔


دہشت گردی کو ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری پر زور

سلامتی کونسل کے بیان میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان حملوں کے ذمہ دار مجرموں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو ہر حال میں جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔


پاکستان کے ساتھ عالمی تعاون کی اپیل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس معاملے میں پاکستان کی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے۔

کونسل کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے بین الاقوامی اشتراک ناگزیر ہے۔


متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا

سلامتی کونسل کے اراکین نے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ، پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

بیان میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا گیا۔


بلوچستان کے متعدد شہروں میں بیک وقت دہشت گرد حملے

یاد رہے کہ ہفتے کی علی الصبح کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں مختلف مقامات پر بیک وقت دہشت گرد حملے کیے گئے تھے۔

ان حملوں میں سرکاری دفاتر، پولیس تھانے، بینک اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث صوبے بھر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔


جانی نقصان: 48 افراد شہید، درجنوں زخمی

سرکاری حکام کے مطابق ان دہشت گرد حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 31 عام شہری شہید ہوئے، جس کے بعد شہداء کی مجموعی تعداد 48 تک جا پہنچی۔

متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔


سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائیاں

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز بتایا کہ حملوں سے قبل اور بعد تقریباً 40 گھنٹوں کے دوران کی گئی جوابی کارروائیوں میں 145 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔


کلیئرنس اور سینٹائزیشن آپریشن جاری

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان بھر میں فتنہ الہندوستان اور خوارج سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس اور سینٹائزیشن آپریشن بدستور جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے فالو اپ آپریشن کے دوران مزید 22 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔


تین روز میں 177 دہشت گرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کا دعویٰ

سکیورٹی ذرائع کے دعوے کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک پہنچ چکی ہے۔

ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سکیورٹی فورسز ہر ممکن اقدام کر رہی ہیں اور دہشت گرد عناصر کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button