کالمزسید عاطف ندیم

سنسکرت کا شبد ’وسنت‘: بسنت تک کا تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی سفر……سید عاطف ندیم

وسنت دیوتا کام دیو سے بھی منسوب تھا—جو محبت اور خواہش کا استعارہ ہے۔

تمہید: ایک موسم، ایک احساس

سنسکرت کا شبد تھا ’وسنت‘—جسے وقت، زبان اور تہذیب کی گردش نے ’بسنت‘ بنا دیا۔ وسنت محض ایک موسم نہیں تھا بلکہ ایک کیفیت، ایک احساس، ایک اجتماعی تجربہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سردی کی سختی ڈھیلی پڑتی، زمین سانس لیتی، درختوں میں کونپلیں پھوٹتیں اور انسان، لاشعوری طور پر ہی سہی، زندگی کی طرف لوٹنے لگتا۔ وسنت کا مطلب صرف بہار نہیں تھا؛ اس میں رنگ، نغمہ، حرکت، امید اور تجدید کا پورا فلسفہ پوشیدہ تھا۔

جنوبی ایشیا کی تہذیبی تاریخ میں وسنت اور بعد ازاں بسنت کا سفر محض لسانی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی ارتقا کی ایک مکمل داستان ہے—جس میں مذہب، سیاست، دربار، عوام، لوک روایت، فنونِ لطیفہ اور جدید ریاست سب شامل ہیں۔


وسنت: سنسکرت روایت میں بہار کا فلسفہ

سنسکرت ادب میں وسنت کو رتو (موسم) کہا گیا ہے۔ قدیم ہندوستانی تقویم کے مطابق سال کو چھ رتوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا، اور وسنت ان میں سب سے محبوب مانا جاتا تھا۔ وسنت کا تعلق نہ صرف فطرت کی بیداری سے تھا بلکہ انسانی جذبات، محبت، تخلیق اور جمالیات سے بھی جوڑا گیا۔

کالیداس جیسے عظیم سنسکرت شاعر نے وسنت کو محبوبہ کے روپ میں پیش کیا—جو سردی کی بے حسی کے بعد دلوں میں حرارت بھر دیتی ہے۔ رتوسنہار میں وسنت کی آمد کو پھولوں کی خوشبو، کوئل کی آواز اور انسانی دل کی دھڑکن کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

وسنت دیوتا کام دیو سے بھی منسوب تھا—جو محبت اور خواہش کا استعارہ ہے۔ یوں وسنت محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی جبلّت، جذبے اور زندگی کی روانی کی علامت بن گیا۔


وسنت پنچمی: مذہبی اور علمی روایت

وسنت پنچمی، جو بعد میں بسنت پنچمی کہلائی، علم، موسیقی اور فن کی دیوی سرسوتی سے منسوب تھی۔ اس دن زرد لباس پہنا جاتا، زرد پھول نذر کیے جاتے اور علم و ہنر کے آغاز کی دعائیں مانگی جاتیں۔

یہ دن تعلیمی اداروں، آشرموں اور مندروں میں خاص اہمیت رکھتا تھا۔ بچے پہلی بار تختی پکڑتے، موسیقی کے شاگرد راگ کی ابتدا کرتے اور شاعر اپنے کلام کی پیشکش کرتے۔ زرد رنگ یہاں خوشحالی، توانائی اور زندگی کی واپسی کی علامت تھا—جو آگے چل کر بسنت کے رنگوں میں ڈھل گیا۔


وسنت سے بسنت: لسانی اور تہذیبی تبدیلی

وقت کے ساتھ سنسکرت سے پراکرت، پھر اپ بھرنش اور آخرکار مقامی بولیوں نے جنم لیا۔ ’وسنت‘ بول چال میں ’بسنت‘ بن گیا۔ یہ محض تلفظ کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ تہذیب کے مرکز کے بدلنے کی علامت تھی—دربار سے گلی تک، مندر سے چھت تک، اور سنسکرت سے عوامی زبان تک۔

بسنت اب مذہبی دن سے زیادہ عوامی تہوار بننے لگا۔ اس میں پتنگ بازی، موسیقی، رقص، میلوں اور کھانوں نے جگہ بنائی۔ یہ تہوار اب صرف دیوی سرسوتی تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آدمی کی خوشی، کھیل اور اجتماعیت کا اظہار بن گیا۔


مغل دور: بسنت دربار سے چھت تک

برصغیر میں بسنت کو جو عروج ملا، اس میں مغل دور کا کردار فیصلہ کن ہے۔ جلال الدین اکبر کے عہد میں بسنت کو باقاعدہ درباری تہوار کی حیثیت دی گئی۔ آئینِ اکبری میں بسنت کا ذکر ملتا ہے جہاں اسے رنگ، موسیقی اور جشن کے ساتھ منایا جانے والا دن بتایا گیا ہے۔

اکبر نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو دربار میں جگہ دی، اور بسنت اسی ہم آہنگی کی علامت بن گئی۔ دربار میں زرد لباس، زرد پرچم، موسیقی اور پتنگ بازی عام تھی۔ یہیں سے بسنت نے اشرافیہ سے نکل کر شہری ثقافت میں قدم رکھا۔


لاہور: بسنت کا ثقافتی دارالحکومت

اگر بسنت کا کوئی روحانی یا ثقافتی مرکز ہے تو وہ لاہور ہے۔ اس شہر کی چھتیں، گلیاں، فصیلیں اور آسمان بسنت کے بغیر ادھورے لگتے ہیں۔ اندرون لاہور میں بسنت محض تہوار نہیں بلکہ مہارت ہے—ایک فن، ایک روایت۔

پتنگیں صرف کاغذ نہیں ہوتیں، وہ شناخت ہوتی ہیں:
تاوا، ڈیڑھ تاوا، گُڈا، مچھر، پری—ہر ایک کا اپنا مزاج، اپنا کردار۔
ڈور محض دھاگہ نہیں، وہ طاقت اور توازن کا امتحان ہے۔
اور ’بو کاٹا‘ صرف نعرہ نہیں، اجتماعی خوشی کا اعلان ہے۔


لوک ادب، شاعری اور بسنت

پنجابی، اردو اور ہندی لوک ادب میں بسنت کا ذکر جگہ جگہ ملتا ہے۔ بلھے شاہ، وارث شاہ، امیر خسرو اور بعد کے شعرا نے بسنت کو محبوبہ، موسم اور آزادی کی علامت بنایا۔

امیر خسرو سے منسوب بسنت کے گیت آج بھی گائے جاتے ہیں۔
اردو شاعری میں بسنت کبھی وصال کی نوید ہے، کبھی جدائی کے بعد زندگی کی واپسی۔

بسنت شاعری میں صرف موسم نہیں بلکہ داخلی انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔


نوآبادیاتی دور: تہوار اور کنٹرول

برطانوی دور میں بسنت کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بڑے اجتماعات، چھتوں پر ہجوم اور شور انگریز حکام کو ناگوار گزرتا تھا۔ اگرچہ بسنت پر مکمل پابندی نہ لگی، مگر اسے منظم اور محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

یہیں سے تہوار اور ریاست کے تعلق میں تناؤ پیدا ہونا شروع ہوا—جو بعد میں جدید ریاست میں شدت اختیار کر گیا۔


جدید پاکستان: بسنت، سیاست اور پابندیاں

قیامِ پاکستان کے بعد بسنت کئی دہائیوں تک منائی جاتی رہی، مگر 1990ء کے بعد حفاظتی خدشات، دھاتی ڈور، حادثات اور عدالتی مداخلت نے اس تہوار کو متنازع بنا دیا۔

یہ سوال اٹھنے لگا:
کیا بسنت ثقافت ہے یا خطرہ؟
کیا ریاست روایت کو محفوظ بنا سکتی ہے یا اسے ختم کر دینا آسان ہے؟

یہ وہ مرحلہ تھا جہاں بسنت محض تہوار نہیں بلکہ ثقافتی سیاست بن گئی۔


جین زی اور بسنت: ایک ٹوٹا ہوا رشتہ

پچیس برس کے وقفے نے ایک پوری نسل کو بسنت کی عملی روایت سے محروم کر دیا۔ جین زی کے لیے بسنت انسٹاگرام کی تصویر، میم یا خبر ہے—زندہ تجربہ نہیں۔

وہ زبان جو چھتوں پر بولی جاتی تھی، وہ اصطلاحات جو استاد سے شاگرد تک منتقل ہوتی تھیں، وہ سب ایک خلا میں چلی گئیں۔

یہ صرف تہوار کی واپسی نہیں بلکہ ثقافتی ترسیل کا سوال ہے۔


نتیجہ: وسنت آج بھی زندہ ہے

وسنت آج بھی زندہ ہے—کبھی بسنت کے نام سے، کبھی رنگ کے طور پر، کبھی نظم میں، کبھی یاد میں۔
اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ فطرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

بسنت اگر واپس آتی ہے تو صرف پتنگ کے ساتھ نہیں، بلکہ سوالوں کے ساتھ—
ہم اپنی تہذیب کو کیسے محفوظ کریں؟
روایت اور حفاظت میں توازن کیسے قائم ہو؟
اور کیا ہم اپنی آنے والی نسل کو صرف تصویریں دیں گے یا تجربہ بھی؟

وسنت کا شبد آج بھی ہمیں یہی یاد دلاتا ہے:
زندگی، ہر سختی کے بعد، ایک دن پھر رنگ ضرور لاتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button