
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی کنگڈم آف اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکی، مملکت سعودی عرب اور ریاست قطر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیاں فلسطینی عوام کی سلامتی اور ان کے حقوق کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، اور اس کے نتیجے میں خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
اسرائیل کے غیر قانونی فیصلے اور اقدامات
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے غیر قانونی فیصلے اور اقدامات، جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی حقیقت قائم کرنا ہے، فلسطینی عوام کی نقل مکانی کی کوششوں کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات فلسطینیوں کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی خودمختاری قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی کوئی قانونی خودمختاری نہیں ہے۔
وزراء نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی، جن کا مقصد خطے میں تشدد اور تنازعات کو بڑھانا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست کے قیام کے حق سے محروم کرنا اور اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔
دو ریاستی حل کا تحفظ اور عالمی ذمہ داریوں کا مطالبہ
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپنے قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کشیدگی کو روکنے کے لیے مجبور کرنے کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر قائل کیا جانا چاہیے کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی تکمیل اور ان کے ریاست کے جائز حقوق کی حفاظت ضروری ہے، تاکہ علاقے میں طویل مدتی امن اور استحکام حاصل کیا جا سکے۔
وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل پر مبنی امن کے حصول کا واحد راستہ ہے، جو بین الاقوامی جواز اور عرب امن اقدام کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ اس حل کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق اور اپنی خود مختار ریاست کا حق ملے گا، جس سے خطے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے
وزرائے خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اس قرارداد میں اسرائیل کے ان تمام اقدامات کی مذمت کی گئی ہے جو مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی آبادیاتی ساخت، کردار اور حیثیت کو تبدیل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس میں مشرقی یروشلم اور 1967 کی سرحدوں پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، بین الاقوامی عدالت انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اور طرز عمل مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں غیر قانونی ہیں اور ان کا مقصد اسرائیلی قبضے کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ عدالت نے اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو ختم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے الحاق کو کالعدم قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کا کردار
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے اپنے کردار کو ادا کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کا حق خودارادیت اور ان کی خود مختار ریاست کا قیام خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کشیدگی اور اشتعال انگیز بیانات کو روکنے کے لیے مجبور کریں، تاکہ اسرائیل کے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کے خلاف نہ جائیں۔
اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور غزہ کی صورتحال
بیان میں خاص طور پر غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا، جس سے فلسطینی عوام کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں نے انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات کی سختی سے مذمت کی کہ اسرائیل نے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور فلسطینی شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہے۔
یہ مشترکہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ خطے کے مسلمان ممالک عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں متحد ہیں اور عالمی برادری سے اس تنازعے کے پائیدار حل کے لیے مزید اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔
نتیجہ
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے۔ ان ممالک نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے آزاد ریاست کے قیام کے حق کی حمایت کرتے رہیں گے اور اس راستے میں ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کو عبور کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مشترکہ موقف اپنائیں گے۔



