پاکستاناہم خبریں

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کی قومی شناخت اور دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی اہمیت پر زور

"کم از کم قومی ایشوز پر، ہم سب یہاں بیٹھے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔"

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں ایک اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قومی تشخص کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور قومی مسائل پر اختلافات کی موجودگی کے باوجود یہ وقت ہے کہ ہم سب ایک مشترکہ قومی شناخت کو اپنائیں جس پر کوئی اختلاف نہ کرے۔ ان کے اس بیان کے بعد، قومی اسمبلی نے اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی۔

خواجہ آصف کا خطاب: دہشت گردی کے خلاف اتحاد اور قومی تشخص کی اہمیت

ایوان کے فرش پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورت حال میں قومی تشخص کی بہت ضرورت ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا اتحاد نہ صرف اہم ہے، بلکہ یہ ایک اخلاقی ضرورت بھی ہے۔ وزیر دفاع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر ہم اب تک مکمل طور پر متحد نہیں ہیں، اور سیاسی مفادات کے تحفظ کی خاطر بعض افراد نے شہداء کے جنازوں میں شرکت تک سے گریز کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ "کم از کم قومی ایشوز پر، ہم سب یہاں بیٹھے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سالمیت اور اس کی دفاعی طاقت کے حوالے سے ہمیں مکمل طور پر متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مضبوط اور متفقہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔

ماضی کی غلطیاں اور عالمی سیاست کی حقیقت

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے ماضی کی سیاسی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر افغانستان کی جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دو آمر حکمرانوں نے سپر پاورز کے مفادات کے لیے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو دہشت گردی کی شکل میں بدترین اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ "دہشت گردی ماضی میں آمروں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے” اور اب ہمیں اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی سطح پر کام کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی سازشیں اور بھارت کا کردار

خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں بین الاقوامی سازشوں کا بھی ذکر کیا، جن کے مطابق پاکستان میں مذہبی منافرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کے آخری چار صدور لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں”، اور اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی طاقتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، حالانکہ اس کی قیمت بہت بڑی رہی ہے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کی بات بھی کی اور کہا کہ "بھارت پاکستان میں پراکسی وار لڑ رہا ہے۔” خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی میں تعاون تھا، لیکن اب افغان حکومت پاکستان کے موقف سے منحرف ہو چکی ہے، اور بھارت نے افغان دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

مذہبی اختلافات اور پارلیمنٹ کی اہمیت

خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مذہبی فرقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، لیکن ان اختلافات کا حل مساجد اور امام بارگاہوں کی بجائے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آئیے اس پارلیمنٹ کو حقیقی طور پر فعال بنائیں” تاکہ قومی مسائل کا حل یہاں پر ہی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری سیاست ریاست کے تابع ہو جائے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہمیں آئین کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے۔

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا موقف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے بھی دہشت گردی اور دیگر قومی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تین روزہ بحث ہونی چاہیے، تاکہ اس مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر اس بحران کا حل نکالنا ہوگا، تاکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔

محمود خان اچکزئی نے حکومت کو پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لیے غیر مشروط حمایت کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ اگر آج ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پارلیمنٹ طاقت کا مرکز ہو گی اور تمام فیصلے یہاں ہوں گے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر خودکش حملے کی مذمت

قومی اسمبلی نے 6 فروری کو اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کرنے کی قرارداد بھی منظور کی۔ یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز حمید حسین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں اس حملے کو "آئین پاکستان، مذہبی آزادی، قومی سلامتی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر براہ راست حملہ” قرار دیا گیا۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے میں ملوث خودکش بمباروں، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے علاوہ، قرارداد میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے نیٹ ورک، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور عوامی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

سیکیورٹی اقدامات اور شہداء کے لواحقین کے لیے امداد

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ عبادت گاہوں بالخصوص مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر اور مستقل انتظامات کیے جائیں۔ اس میں شہداء کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کی ایک مؤثر حکمت عملی بنائی جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس ایوان نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

نتیجہ

قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی تقریروں نے پاکستان کی سیاسی و سماجی حقیقتوں پر روشنی ڈالی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدت کا تذکرہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں قومی یکجہتی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کا حل صرف پارلیمنٹ میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ اور آئین کے ساتھ وفاداری پاکستان کی ترقی اور سلامتی کی بنیاد ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button