
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ،آئی ایس پی آر کے ساتھ
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کردار، جرأت اور قابلیت وہ لازوال عسکری اقدار ہیں جو پاک فوج کی پہچان ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کی ضمانت بھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے جوان انہی اوصاف کو عملی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کھاریاں میں منعقدہ 9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ملکی و غیر ملکی عسکری حکام، بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشی بھی شریک تھے۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مقابلوں میں شریک تمام ٹیموں کو اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، نظم و ضبط اور شاندار کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں اور اہلکاروں میں انعامات اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ٹیم اسپرٹ مقابلہ ایک 60 گھنٹوں پر مشتمل گشت پر مبنی کٹھن عسکری مشق ہے، جس کا مقصد فوجی جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی صلاحیت، جسمانی و ذہنی برداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ مشق کے دوران شرکاء کو حقیقت پسندانہ اور چیلنجنگ حالات میں مختلف آپریشنل مراحل سے گزرنا پڑا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشق 5 فروری 2026ء سے پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں منعقد کی گئی، جہاں کا دشوار گزار جغرافیہ شرکاء کے لیے حقیقی جنگی ماحول کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔ مشق کے دوران مختلف ممالک کی ٹیموں کے درمیان جدید عسکری خیالات، حربی تجربات اور بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کیا گیا، جس سے باہمی سیکھنے اور مشترکہ تیاری کو فروغ ملا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، غیر معمولی جسمانی و ذہنی برداشت، عملی قابلیت، جنگی مہارت اور بلند حوصلے کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کثیر القومی عسکری مشقیں موجودہ اور مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہیں اور ایسی سرگرمیاں مشترکہ تیاری کو مضبوط بناتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مسلسل تربیت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کردار، جرأت اور قابلیت جیسے اوصاف ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک پیشہ ور فوج کی کامیابی قائم ہوتی ہے، اور پاکستانی جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان اوصاف کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال مقابلے میں 19 ممالک نے شرکت کی۔ بحرین، بنگلادیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن اور سعودی عرب کی ٹیمیں مشق کا حصہ تھیں، جبکہ ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکیہ، امریکا اور ازبکستان نے بھی مقابلے میں شرکت کی۔ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ نے مشق میں بطور مبصر شرکت کی۔
پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 ملکی ٹیموں نے بھی مقابلے میں حصہ لیا، جبکہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشیوں نے مشق کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، منظم انتظامات اور پاک فوج کی میزبانی کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف تربیتی سرگرمیوں کا عملی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے نئے قائم شدہ جدید ٹیکٹیکل سمیولیٹر کا بھی معائنہ کیا اور جوانوں و تکنیکی عملے کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
فیلڈ مارشل نے روایتی تربیتی طریقوں کے ساتھ ساتھ سمیولیٹر پر مبنی جدید تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اختتامی تقریب قومی و بین الاقوامی عسکری تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور مشترکہ عزم کی ایک شاندار مثال بن کر سامنے آئی، جو عالمی سطح پر پاک فوج کے مثبت اور مضبوط تشخص کی عکاس ہے۔











