پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

’آزادی یا موت‘ کنٹینر تیار، مگر اسلام آباد مارچ غیر یقینی

کنٹینر پشاور رنگ روڈ کے مقام پر تیار کیا گیا، جہاں دو روز قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خود موقع پر پہنچ کر کنٹینر کی تیاری اور اس میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔

نمائندہ خصوصی پشاور: خیبرپختونخوا میں ممکنہ احتجاج اور اسلام آباد مارچ سے متعلق سیاسی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے، تاہم تاحال کسی حتمی لائحہ عمل یا تاریخ کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آ سکا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے لیے ایک خصوصی کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے جسے ’آزادی یا موت‘ کا نام دیا گیا ہے، مگر پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کے باعث آئندہ اقدامات غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔


وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کنٹینر کا دورہ

ذرائع کے مطابق مذکورہ کنٹینر پشاور رنگ روڈ کے مقام پر تیار کیا گیا، جہاں دو روز قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خود موقع پر پہنچ کر کنٹینر کی تیاری اور اس میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے کنٹینر پر چڑھ کر جاری کام کا معائنہ کیا، وہاں موجود کارکنوں سے ملاقات کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ باقی ماندہ کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔


دورے کے بعد کنٹینر ہٹا دیا گیا

وزیراعلیٰ کے دورے کے فوراً بعد انتظامیہ نے کنٹینر کو پشاور رنگ روڈ کے مقام سے ہٹا دیا۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں، تاہم احتجاج یا اسلام آباد مارچ کے حوالے سے نہ تو سرکاری سطح پر اور نہ ہی پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی حتمی اعلان سامنے آیا ہے۔


شاہد خٹک کا بیان: ’کنٹینر کسی بھی وقت روانہ ہو سکتا ہے‘

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے پیر کے روز ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ پشاور میں احتجاج کے لیے کنٹینر مکمل طور پر تیار ہے، جس پر نمایاں طور پر ’آزادی یا موت‘ درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قائدین اور کارکن کسی بھی وقت اس کنٹینر پر سوار ہو سکتے ہیں۔ شاہد خٹک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کنٹینر کی ڈرائیونگ سیٹ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود سنبھالیں گے۔


کنٹینر کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئیں

پارٹی کے ایک سینیئر ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کنٹینر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کنٹینر کی لمبائی 40 فٹ ہے اور اسے ایک متحرک رہائشی یونٹ کی شکل دی گئی ہے۔ کنٹینر کے اندر واش روم، چار کمرے اور ایک علیحدہ ریسٹ ایریا بنایا گیا ہے، جبکہ ایئر کنڈیشننگ، کھانا پکانے کی سہولت اور دیگر بنیادی ضروریات بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ طویل احتجاج یا سفر کے دوران قیادت کو سہولت میسر ہو۔


احتجاجی حکمتِ عملی پر قیادت میں اختلافات

اسی پارٹی ورکر کے مطابق اسلام آباد مارچ کے لیے حتمی تاریخ اس لیے طے نہیں ہو سکی کیونکہ احتجاج کے معاملے پر صوبائی قیادت اور مرکزی قیادت کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ شٹرڈاؤن ہڑتال خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی، جس کے باعث پارٹی کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے اور قیادت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔


نئی حکمتِ عملی کی تیاری

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اب ایک نئی احتجاجی حکمتِ عملی پر کام کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے لیے پارٹی کے تمام دھڑوں اور قائدین کو ایک صفحے پر آنا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق قیادت کے باہمی اختلافات کے باعث احتجاجی سیاست کو تاحال کوئی واضح سمت نہیں مل سکی۔


پارٹی چیئرمین کی لاعلمی

ادھر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کسی بھی ممکنہ اسلام آباد مارچ کی تیاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی بانی عمران خان نے احتجاج کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے، لہٰذا آئندہ لائحہ عمل انہی دونوں کی مشاورت اور صوابدید سے طے کیا جائے گا۔


سیاسی مبصرین کی رائے

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کنٹینر کی تیاری کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ اور پارٹی ورکرز میں مقبولیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اسلام آباد کی جانب کسی بڑے مارچ کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق کنٹینر کی تیاری ایک علامتی اقدام ہو سکتا ہے، جبکہ عملی طور پر پارٹی کے بیشتر رہنماؤں نے نہ تو مارچ کی کھل کر حمایت کی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ کیا گیا ہے۔


نتیجہ: کنٹینر تیار، مگر فیصلہ باقی

مجموعی طور پر صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر احتجاجی سیاست کے حوالے سے واضح سمت، قیادت میں ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے کا فقدان موجود ہے۔ نتیجتاً ’آزادی یا موت‘ کنٹینر تو تیار کھڑا ہے، مگر اسلام آباد مارچ فی الحال محض قیاس آرائیوں اور اندرونی اختلافات کی نذر دکھائی دیتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button