
نوشکی / کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 31 جنوری کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے کیے گئے شدید، منظم اور طویل حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران اب تک درجنوں مشکوک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ کالعدم تنظیم کے سربراہ بشیر زیب کے آبائی گھر سمیت دو مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کا آبائی گھر مسمار
بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ نوشکی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور احمد وال کے علاقے میں واقع بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کا آبائی گھر سکیورٹی فورسز نے مسمار کیا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق یہ کچا مکان طویل عرصے سے خالی پڑا تھا اور اسے کسی رہائشی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔
اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر حکومتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس کی جانب سے مسمار شدہ مکان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جن میں دھماکے کے نتیجے میں تباہ شدہ گھر کا ملبہ فضا میں بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔
نوشکی شہر میں دوسرا مکان بھی مسمار
پولیس افسر کے مطابق نوشکی شہر کے علاقے قاضی آباد میں واقع ایک اور مکان کو بھی مسمار کیا گیا، جسے گزشتہ ہفتے دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے کے دوران مورچے کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس مکان کا مالک بیرون ملک مقیم ہے، تاہم عمارت ایک غیر سرکاری تنظیم کو کرائے پر دی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق حملے کے دوران دہشت گرد اس عمارت میں داخل ہوئے اور چھت سے سکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے بعد سکیورٹی حکام نے اس مکان کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مسمار کرنے کا فیصلہ کیا۔
31 جنوری کے حملے: بلوچستان میں بدترین پرتشدد لہر
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب 31 جنوری کو کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں بیک وقت حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں سب سے بڑا، طویل اور شدید حملہ نوشکی میں ہوا، جہاں تقریباً تین روز تک سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری رہیں۔
ان جھڑپوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری، کم عمر بچے اور مزدور بھی نشانہ بنے جبکہ نوشکی شہر کو عملی طور پر محاصرے اور جنگ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
نوشکی: بی ایل اے قیادت کا گڑھ
نوشکی کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کے علاوہ تنظیم کے دوسرے اہم کمانڈر اور خودکش یونٹ ’مجید بریگیڈ‘ کے سربراہ رحمان گل کا بھی آبائی علاقہ ہے۔ رحمان گل پاک فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے تاہم نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد فوج سے فرار ہو کر بی ایل اے میں شامل ہو گئے۔
واضح رہے کہ فروری 2022 میں بھی نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر بڑا حملہ کیا گیا تھا، تاہم 31 جنوری 2026 کا حملہ شدت، وسعت اور نقصانات کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ تھا۔
انتظامی افسران کا اغوا، سرکاری عمارتوں کو نذر آتش
حالیہ حملوں کے دوران مسلح افراد نے نوشکی میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے گھروں اور دفاتر پر حملہ کر کے انہیں اغوا کر لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے مراکز پر خودکش کار بم دھماکوں سمیت شدید حملے کیے گئے۔ حملہ آوروں نے دو تھانوں، تین بینکوں، پولیس لائن، سی ٹی ڈی کے دفتر، نوشکی جیل اور جوڈیشل کمپلیکس کی عمارتوں کو آگ لگا دی۔
جیل توڑ دی گئی، 35 قیدی فرار
نوشکی جیل پر حملے کے دوران جیل توڑ دی گئی جس کے نتیجے میں سابق چیف جسٹس بلوچستان نور مسکانزئی کے قتل میں ملوث دو قیدیوں سمیت 35 قیدی فرار ہو گئے۔ حملہ آور تھانوں اور جیل میں موجود اسلحہ بھی لوٹ کر لے گئے۔
احمد وال میں ریلوے، واپڈا اور نادرا دفاتر کو نشانہ بنایا گیا
اسی دوران بشیر زیب کے آبائی علاقے احمد وال میں مسلح افراد نے واپڈا گرڈ اسٹیشن، نادرا دفتر، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر اور متعدد موبائل فون ٹاورز کو نذر آتش کیا۔ احمد وال ریلوے اسٹیشن، ایران سے سلفر لے کر آنے والی مال گاڑی اور انجن کو بھی آگ لگا دی گئی، جس سے ریلوے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
کلیئرنس آپریشن، چیک پوسٹس اور غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتحال
ان حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے نوشکی شہر اور گردونواح میں کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز شروع کیے جو تاحال جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جہاں گاڑیوں اور افراد کی سخت چیکنگ جاری ہے۔
شناختی کارڈ کے بغیر شہر میں داخل ہونے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق رات کے اوقات میں غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتحال رہتی ہے۔
بازار، بینک اور شہری زندگی بری طرح متاثر
انجمن تاجران نوشکی کے صدر احمد جان نے بتایا کہ حملوں کے بعد تین سے چار دن تک شہر مکمل طور پر بند رہا۔ بعد ازاں انتظامیہ نے دکانداروں کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک بازار کھولنے کی اجازت دی۔
بینکوں کو نذر آتش کیے جانے کے باعث شہریوں، خصوصاً سرکاری ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوشکی میں موجود دس بینکوں میں سے تین کو جلایا گیا جبکہ باقی ایک ہفتے تک بند رہے۔ اب صرف دو بینک محدود اوقات میں کام کر رہے ہیں۔
بجلی، پانی اور گیس کی بندش
سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر خودکش حملے کے دوران 132 کے وی کی مین ٹرانسمیشن لائن بھی تباہ ہو گئی، جس کے باعث ایک ہفتے تک بجلی اور پانی کی فراہمی معطل رہی۔ بجلی اور پانی بحال ہو چکے ہیں تاہم گیس کی فراہمی تاحال بند ہے۔
شاہراہ این-40 کی بندش، ایران تجارت متاثر
نوشکی کو کوئٹہ اور تفتان سے ملانے والی مرکزی شاہراہ این-40 تقریباً ایک ہفتے تک بند رہی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق تین مختلف مقامات پر پلوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا جن کی مرمت کے بعد شاہراہ کھول دی گئی۔
ہلاکتیں: 25 افراد جاں بحق، بچے بھی نشانہ بنے
پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق نوشکی حملوں میں کم از کم 25 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں پولیس اہلکار، عام شہری، مزدور اور بچے شامل ہیں۔ ڈی آئی جی رخشان ڈویژن عبدالحئی بلوچ کے مطابق سی ٹی ڈی دفتر پر حملے میں سات اہلکار شہید ہوئے۔
جوابی کارروائیاں: 30 سے زائد حملہ آور ہلاک
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائیوں میں 30 سے زائد حملہ آور مارے گئے جبکہ کئی زخمی ہو کر فرار ہو گئے۔ ان کی تلاش کے لیے پہاڑی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے، جس میں ہیلی کاپٹر اور ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
بارودی سرنگوں کی برآمدگی
کلیئرنس آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا۔ پیر کے روز قاضی آباد میجر چوک کے قریب خالی میدان سے سات بارودی سرنگیں برآمد کر کے ناکارہ بنائی گئیں، جن میں پانچ ٹینک شکن بارودی سرنگیں شامل تھیں۔
صورتحال قابو میں، معمولات زندگی کی بحالی کا دعویٰ
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی میں مجموعی صورتحال قابو میں ہے۔ کلیئرنس آپریشن اور مفرور حملہ آوروں کی گرفتاری کے بعد حالات مزید بہتر ہوں گے اور شہر میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال کر دیے جائیں گے۔



