بین الاقوامیتازہ ترین

ٹرمپ۔نتین یاہو کی ملاقات میں ایران ایجنڈے پر سر فہرست

یہ واضح نہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات میں مغربی کنارے کا معاملہ زیر بحث آئے گا یا نہیں، حالانکہ ٹرمپ ماضی میں اس علاقے کے الحاق کی مخالفت کر چکے ہیں

اے ایف پی

ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کا دورہ وائٹ ہاؤس سفارت کاری پر ’تباہ کن‘ اثر ڈالے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم امریکی صدر سے ملاقات میں ایرانی میزائل پروگرام کے خاتمے پر بات کریں گے۔

یہ ملاقات ٹرمپ کے ایک سال قبل دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں دونوں رہنماؤں کی چھٹی ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل وہ اکتوبر میں یروشلم میں بھی ملے تھے، جب ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چند روز قبل ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں بات چیت ہوئی، جس کے بعد ٹرمپ نے مذاکرات کے ایک اور دور کا عندیہ دیا۔ اسی دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں آبادکاروں کو فلسطینی مالکان سے براہ راست زمین خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات میں مغربی کنارے کا معاملہ زیر بحث آئے گا یا نہیں، حالانکہ ٹرمپ ماضی میں اس علاقے کے الحاق کی مخالفت کر چکے ہیں۔

یہ ملاقات ٹرمپ کے ایک سال قبل دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں دونوں رہنماؤں کی چھٹی ملاقات ہوگی
یہ ملاقات ٹرمپ کے ایک سال قبل دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ میں دونوں رہنماؤں کی چھٹی ملاقات ہوگیتصویر: Jim Watson/AFP

ایرانی میزائل ‘ایک ریڈ لائن‘

نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق وہ ٹرمپ سے گفتگو میں ایران کے جوہری پروگرام بلکہ میزائلوں کے ذخیرے پر اسرائیل کے تحفظات کو اجاگر کریں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں تہران کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر پابندیاں اور ایران کی جانب سے مسلح علاقائی اتحادیوں کی حمایت کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔

اب تک ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری مسئلے سے آگے بات چیت کے دائرہ کار کو بڑھانے سے انکار کیا ہے، اگرچہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مسلح گروہوں کی حمایت بھی مذاکرات کا حصہ بنے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی گزشتہ سال جون میں ایک غیر معمولی جنگ کے دوران عروج پر پہنچی، جس کے بعد سے اسرائیلی حکام مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں جوہری پروگرام کے مقابلے میں بڑا اور الگ نوعیت کا خطرہ ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران بہت کم پیشگی انتباہ کے ساتھ اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے اور طویل تنازعہ میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔

سفارتکاری پر ‘تباہ کن اثرات‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز خبردار کیا کہ نیتن یاہو کا دورہ سفارت کاری پر ”تباہ کن‘‘ اثر ڈالے گا اور خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے حوالے سے نہایت محتاط ہیں۔ امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر گائے زیو کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اتنے پرجوش نہیں جتنا وہ چاہتے ہیں۔

ایرانی فوجی سربراہ امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا
ایرانی فوجی سربراہ امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گاتصویر: Iranian Army Media Office/AFP

زیو کے مطابق نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اس بات کو تسلیم کریں کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے لیے ایک سرخ لکیر ہیں اور انہیں کسی بھی جوہری معاہدے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

جیو پولیٹیکل تجزیہ کار مائیکل ہورووٹز کے مطابق نیتن یاہو کا حتمی مقصد واضح ہے: ایران میں حکومت کی تبدیلی یا کم از کم جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ۔

اکتوبر 2024 میں ایران نے حماس اور حزب اللہ کے سینیئر رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر تقریباً 200 میزائل داغے تھے۔ اس سے قبل اپریل 2024 میں غزہ جنگ کے دوران ایران نے پہلی بار براہ راست ڈرون اور میزائل حملہ کیا تھا، جو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے ردعمل میں تھا، جس کا الزام تہران نے اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button