
خواتین خودکش بمبار اور جدید اسلحہ…….سید عاطف ندیم
بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی کی بدلتی حکمتِ عملی، بڑھتا خطرہ اور ریاست کے لیے نئے چیلنجز
پاکستان کا سب سے بڑا مگر سماجی و اقتصادی طور پر سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ بلوچستان ایک بار پھر شدید سلامتی چیلنجز کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ برس بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے کیے گئے عسکریت پسندانہ حملوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جس نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی سکیورٹی اسٹرٹیجی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ان حملوں کی سب سے تشویشناک اور غیر معمولی جہت خواتین کی بطور خودکش بمبار شمولیت اور جدید اسلحے کا بڑھتا استعمال ہے، جسے ماہرین دہشت گردی کے حربوں میں ایک خطرناک ارتقاء قرار دے رہے ہیں۔
بلوچستان دہائیوں سے سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی، وسائل کی تقسیم پر اختلافات اور مرکز و صوبے کے درمیان اعتماد کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ ان حالات میں مختلف ادوار میں مزاحمتی اور علیحدگی پسند تحریکیں ابھرتی رہی ہیں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی کو سب سے زیادہ منظم اور متحرک گروہ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ریاستی ادارے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سماجی اقدامات جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تشدد کا دائرہ کم ہونے کے بجائے نئی شکلیں اختیار کر رہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بی ایل اے کی جانب سے خواتین کو خودکش حملہ آور کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق،
“خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت عسکریت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ اس سے گروہ کو نہ صرف تشہیری فائدہ ملتا ہے بلکہ وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ جنگ اب گھروں تک پہنچ چکی ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی شمولیت جذباتی اثرات زیادہ گہرے چھوڑتی ہے، جس کے ذریعے عسکریت پسند تنظیمیں اپنی کمیونٹی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کی آن لائن بھرتی کے معاملے کو متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اٹھایا ہے، کیونکہ خواتین کی بڑی تعداد کو انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے نظریاتی طور پر متاثر کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں جنوری میں ہونے والا حملہ اس رجحان کی سب سے ہولناک مثال تھا۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کے مطابق،
اس کارروائی میں شامل چھ خواتین میں سے تین خودکش بمبار تھیں، اور اس حملے کے نتیجے میں 58 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ حملہ نہ صرف جانی نقصان کے لحاظ سے بلکہ اپنی منصوبہ بندی اور نفسیاتی اثرات کے اعتبار سے بھی غیر معمولی تھا۔ اس سے قبل ریکارڈز کے مطابق بی ایل اے کی مجموعی خواتین خودکش بمباروں کی تعداد صرف پانچ تھی، جن میں پہلا حملہ 2022 میں ہوا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں تین مزید ممکنہ خواتین بمباروں کی گرفتاری نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کے انسداد دہشت گردی محکمے (CTD) کی دسمبر میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، بی ایل اے میں شامل خواتین مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں۔
کچھ خواتین یونیورسٹی تعلیم یافتہ ہیں، جو اس تاثر کو چیلنج کرتا ہے کہ انتہا پسندی صرف غربت یا ناخواندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ خواتین اکثر:
نظریاتی بیانیے
ریاست کے خلاف مظلومیت کے احساس
آن لائن پروپیگنڈا
اور ذاتی یا خاندانی محرومیوں
کے امتزاج کے نتیجے میں عسکریت پسند تنظیموں کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔
اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے میں شامل خواتین کی تعداد اب بھی محدود ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھرتیاں اس بات کی علامت ہو سکتی ہیں کہ گروہ کی مقبولیت بلوچ معاشرے کے بعض حلقوں میں بڑھ رہی ہے۔
سنگاپور کی نایانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں عسکریت پسندی پر تحقیق کرنے والے عبدالباسط کے مطابق،
“آج کے جنوبی ایشیا میں بی ایل اے سب سے منظم اور مہلک باغی گروہ ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہائی پروفائل حملوں میں استعمال کر کے گروہ نہ صرف اپنی موجودگی کا اظہار کر رہا ہے بلکہ ریاست کو یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ روایتی سکیورٹی اقدامات کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خواتین کی شمولیت کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کی عسکری طاقت میں اضافے کا دوسرا بڑا سبب جدید اسلحے تک رسائی ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق، 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے ہتھیار خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگنے لگے۔
فوج کے مطابق:
گزشتہ سال جون تک 272 امریکی رائفلیں
33 نائٹ وژن آلات
قبضے میں لیے گئے، جو بلوچستان میں ہونے والے حملوں سے برآمد ہونے والے دیگر ہتھیاروں کے علاوہ ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جنوری کے حملے سے قبل کہا تھا:
“ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہتھیار پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں۔”
اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے نتیجے میں طالبان کے ہاتھوں ہتھیاروں کا ضیاع ہوا۔
امریکی دفاعی محکمہ کے مطابق، افغانستان میں چھوڑے گئے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے سازوسامان میں سے افغان فورسز کو فراہم کیے گئے 427,300 ہتھیاروں میں سے 300,000 سے زائد طالبان کے قبضے میں چلے گئے۔
تاہم روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکی کہ بی ایل اے کے حملوں میں استعمال ہونے والا جدید اسلحہ امریکی تھا یا کسی اور ذریعے سے حاصل کیا گیا۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران ہونے والی شدید جھڑپوں میں 216 جنگجو ہلاک کیے گئے، جن سے:
گرنیڈ لانچرز
درجنوں ایم 16 اور ایم 4 رائفلیں
برآمد ہوئیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں نہ صرف جدید اسلحہ رکھتی ہیں بلکہ اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت بھی حاصل کر چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی شمولیت کو جان بوجھ کر نمایاں کیا جا رہا ہے تاکہ:
میڈیا توجہ حاصل کی جا سکے
نئی بھرتیوں کو راغب کیا جا سکے
اور ریاستی اداروں پر نفسیاتی دباؤ ڈالا جا سکے
عبدالباسط کے مطابق،
“وہ خواتین کو ہائی پروفائل حملوں میں استعمال کر کے اپنی موجودگی واضح کر رہے ہیں۔”
ماہرین سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اگر:
آن لائن بھرتی
نظریاتی پروپیگنڈا
اور جدید اسلحے کی ترسیل
کو مؤثر طور پر نہ روکا گیا تو بلوچستان میں تشدد مزید پیچیدہ اور مہلک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ریاست کے لیے یہ محض ایک عسکری چیلنج نہیں بلکہ:
سماجی
نفسیاتی
اور نظریاتی
محاذ پر بھی ایک طویل جنگ ہے، جس کے لیے صرف طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، سماجی انصاف اور معاشی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔
نتیجہ
بلوچستان میں خواتین خودکش بمباروں کا ظہور اور جدید اسلحے کا بڑھتا استعمال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں اپنی حکمتِ عملی بدل رہی ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔
جب تک ریاست طاقت کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی، شمولیتی ترقی اور مؤثر بیانیے پر توجہ نہیں دے گی، تب تک یہ خطرناک رجحان مکمل طور پر ختم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔


