
سید عاطف ندیم-پاکستان گورنمنٹ کے ساتھ
شہباز شریف نے ہفتے کے روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران ملک خصوصاً دارالحکومت کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور مؤثر و بروقت اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں دہشت گردی کے خطرات، انٹیلی جنس رپورٹس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال پر جامع جائزہ پیش کیا گیا۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کو اسلام آباد کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، حساس مقامات کے تحفظ، عوامی مقامات پر نگرانی اور حالیہ واقعات کے بعد کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی سے متعلق تمام امور کو “مؤثر اور مربوط انداز میں” حل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کمزوری کی گنجائش نہ چھوڑی جائے۔
حالیہ خودکش حملے، سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
واضح رہے کہ اسلام آباد حالیہ ہفتوں میں دو بڑے اور ہولناک خودکش حملوں کی زد میں رہا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
6 فروری کو نمازِ جمعہ کے دوران ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں 36 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ دارالحکومت کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل نومبر میں اسلام آباد کے علاقے G-11 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی عمارت کے باہر خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
وزیر داخلہ کو سخت ہدایات
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسلام آباد جیسے حساس اور اہم شہر میں کسی بھی قسم کی بدامنی ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس اداروں، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حساس تنصیبات، عبادت گاہوں، عدالتی عمارتوں اور عوامی اجتماعات کے مقامات پر سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔
وزیر داخلہ کا متوقع دورۂ سری لنکا
پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جلد ہی سری لنکا کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کو وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام پہنچائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ دورہ خطے میں سیکیورٹی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور باہمی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات
دریں اثنا، جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوانِ صدر میں بھی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں داخلی سلامتی، دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو ہر قیمت پر بہتر بنائے گی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عوام کے تحفظ کے لیے پوری طرح متحرک ہے اور سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سیاسی و سیکیورٹی حلقوں کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حکومت دارالحکومت اور ملک بھر میں امن کے قیام کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔



