مشرق وسطیٰتازہ ترین

سعودی عرب کو وژن 2030 کیوں بدلنا پڑا؟

اس نظر ثانی کا مطلب یہ ہو گا کہ کچھ منصوبے کم کیے جائیں گے، کچھ بڑھائے جائیں گے اور کچھ روک دیے جائیں گے۔

جنیفر ہولیز 

سعودی حکومت نے اپنے اقتصادی اور سماجی اصلاحاتی ایجنڈے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ اب توجہ تعمیراتی کاموں اور گِگا پراجیکٹس کے بجائے ٹیکنالوجی اور مذہبی سیاحت پر مرکوز ہو گی۔ ایسے میں انسانی حقوق کی صورتحال کیا ہے؟

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وژن 2030 نامی اس منصوبے کے روح رواں ہیں، جب انہوں نے اس پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا تو اس وقت وہ نائب ولی عہد اور وزیر دفاع تھے۔ اس پراجیکٹ کی لاگت 2 ٹریلین ڈالر سمجھی جاتی ہے۔

عالمی سطح پر تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں اپنی معیشت کو ٹیکنالوجی، سیاحت اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقل کرنا شروع کیا تھا۔ دیگر اہم شعبوں میں بڑے تعمیراتی گِگا پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے کردار میں اضافہ اور سماجی اصلاحات بھی اس کا حصہ بنائے گئے۔ ان پراجیکٹس کے تحت خواتین کے حقوق اور ان کی ورک فورس میں شمولیت کو بڑھانا ایک اہم مقصد بتایا گیا تھا۔

تاہم وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان نے اسی ہفتے اعلان کیا کہ حکومت اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے۔ پیر کے روز بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک نئی پانچ سالہ منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد سیاحت، صنعت، لاجسٹکس اور توانائی پر ”دوگنا زور‘‘ دینا ہے۔

اس نظر ثانی کا مطلب یہ ہو گا کہ کچھ منصوبے کم کیے جائیں گے، کچھ بڑھائے جائیں گے اور کچھ روک دیے جائیں گے۔

سعودی تعمیراتی منصوبے کم یا منسوخ

اس ماہ کے آغاز میں سعودی اولمپک کمیٹی نے اعلان کیا کہ سن 2029 کے ایشیائی سرمائی کھیل اب سعودی عرب کے نیوم کے تحت زیر تعمیر ٹروینا اسکی ریزورٹ کے بجائے قازقستان کے شہر الماتی میں ہوں گے۔

سن 2025 میں نیوم کے منصوبوں کے دائرے کو پہلے ہی محدود کر دیا گیا تھا۔ 170 کلومیٹر طویل دو متوازی فلک بوس عمارتوں کے بجائے اب صرف 2.4 کلو میٹر لمبی عمارتیں تعمیر کی جائے گی۔ ابتدا میں خیال تھا کہ یہ عمارتیں نیو یارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عظیم الشان ہوں گی۔

جنوری کے آخر میں ریاض کے نئے مرابہ ڈسٹرکٹ کے مرکزی تعمیراتی منصوبے ”المکعب‘‘ کی تعمیر بھی روک دی تاکہ اس کے مالیاتی اور تکنیکی امکانات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

سعودی عرب
نیوم کے منصوبوں کے دائرے کو پہلے ہی محدود کر دیا گیا تھاتصویر: Valery Sharifulin/ITAR-TASS/IMAGO

اس کے بجائے اکتوبر سن 2025 میں ولی عہد نے ”باب سلمان‘‘ کا اعلان کیا، جو مکہ کی مسجد الحرام سے متصل ایک نیا علاقہ ہے۔ وہاں تقریباً 9 لاکھ افراد کے لیے اندرونی و بیرونی عبادت گاہوں کا اضافہ کیا جائے گا۔

لندن کی کنسلٹنسی Azure Strategy کی جغرافیائی و سلامتی کی ڈائریکٹر ایلس گاور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہر بڑا منصوبہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ترجیحات میں تبدیلی سے گزرتا ہے۔ وژن 2030 کے اہداف بہت بلند تھے اور کئی گِگا پراجیکٹس پہلے ہی سے غیر حقیقی دکھائی دیتے تھے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا گرنا، حکومتی اخراجات میں اضافہ اور نوجوان آبادی کی روزگار کی ضروریات نے سعودی بجٹ پر دباؤ ڈالا ہے۔

سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا کردار

ان اصلاحات میں تبدیلی کا دباؤ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی جانب سے آیا ہے، جو وژن 2030 کا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ اکتوبر سن 2025 میں جاری کردہ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 925 ارب ڈالر مالیت کے اس خود مختار فنڈ نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگے تعمیراتی منصوبوں کے بجائے ایسے شعبوں پر توجہ دی جائے، جن سے قلیل المدتی بنیادوں پر بہتر منافع ملے۔

PIF کے گورنر یاسر الرمیان نے جنوری میں بتایا تھا کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ ادارہ چھ ”ایکو سسٹمز‘‘ پر توجہ دے گا، جن میں سیاحت، شہری ترقی، جدت، صاف توانائی اور صنعتی ترقی شامل ہیں۔

گاور کے مطابق ”نیا (سعودی) فوکس زیادہ بین الاقوامی نوعیت کے منصوبوں پر ہے، جیسے سن 2034 کا ورلڈ کپ، جہاں سعودی عرب کے لیے نمایاں فوائد متوقع ہیں۔‘‘ اس سے عالمی سطح پر ملک کا سوفٹ امیج بھی بہتر ہو گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے بھی سعودی عرب میں اصلاحات کے ازسرنو جائزے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا، ”نئی ترجیحات کے تحت نوجوانوں کی امنگوں سے ہم آہنگ حکمت عملی ضروری ہے۔‘‘

اس عالمی ادارے نے یہ نشاندہی بھی کی کہ سعودی افرادی قوت میں ہنر اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کا توازن بگڑا ہوا ہے اور وژن 2030 کے شعبے ابھی تک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان طبقے کو پوری طرح استعمال نہیں کر رہے۔

گاور کا کہنا ہے کہ وژن 2030 کے فوکس میں تبدیلی نوجوان نسل کے لیے حیران کن ہے کیونکہ وہ ایک ایسے ماحول میں بڑی ہوئی ہے، جہاں ترقی، روزگار اور بڑے منصوبوں کے وعدے کیے گئے تھے۔

سعودی عرب میں آمریت اور انسانی حقوق کی صورت حال

اگرچہ یہ تبدیلی سعودی عوام کے لیے اچانک ہے لیکن مبصرین کو توقع نہیں کہ بڑے پیمانے پر کوئی عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔  سعودی عرب پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات مستقل لگتے رہے ہیں۔

سعودی خواتین
سعودی خواتین ”شوہر کی نافرمانی‘‘ پر آج بھی سزاؤں کا سامنا کر سکتی ہیںتصویر: Fayez Nureldine/AFP/Getty Images

گزشتہ پانچ برسوں میں کئی افراد کو محض سوشل میڈیا پر انسانی حقوق سے متعلق پوسٹ کو لائیک کرنے پر قید کی طویل سزائیں سنائی گئی، جب کہ سن 2025 میں سزائے موت کے واقعات بھی بڑھ گئے۔ گاور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سعودی ریاست کسی بھی قسم کے عدم اطمینان کے اظہار پر کڑی نظر رکھے گی، چاہے وہ سوشل میڈیا پر ہو یا عوامی مقامات پر۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ALQST کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جولیا لیگنر نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ  PIF کے تحت چلنے والے بڑے منصوبے سعودی معاشرے کے وسیع حصے کو شامل نہیں کرتے۔

یہی بات ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر احمد بن شمسی نے بھی کہی۔ انہوں نے کہا، ”سعودی عرب میں اصلاحات سخت آمرانہ نظام کے تحت اوپر سے مسلط کی جاتی ہیں اور جبر بھی۔‘‘

احمد بن شمسی کے بقول، ”ظاہری طور پر(سعودی عرب میں) ترقی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں صورتحال اتنی مثبت نہیں۔ ہاں، خواتین گاڑی چلا سکتی ہیں اور انہیں نوکری کا زیادہ موقع مل رہا ہے لیکن ان کی آزادی محدود، حقوق مشروط اور ان کا اختیار انتہائی کنٹرول میں ہے۔‘‘

احمد بن شمسی نے یہ بھی کہا کہ سعودی خواتین ”شوہر کی نافرمانی‘‘ پر آج بھی سزاؤں کا سامنا کر سکتی ہیں۔ طلاق روکی جا سکتی ہے، بچوں کی تحویل چھینی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”جہاں تک حقیقی صنفی مساوات کی بات ہے، وہ ابھی بہت دور ہے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button