
چیف منسٹرکچہ ڈویلپمنٹ پروگرام اور میری سفارشات۔۔ ۔ پیر مشتاق رضوی
اب جبکہ شہداۓ پولیس کا لہو رنگ لایا ہے اور کچہ میں امن کے بعد ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع ہوگا میں ضلع راجن پور پولیس نے کچہ میں مستقلا" امن وامان قائم کرنے میں قابل تحسین کردار ادا کیا ہے
ایک ماہ قبل 17 جنوری کو راقم (مشتاق رضوی) نے وزیر اعلی’ پنجاب کو کچہ میں امن کے بعد ترقی اور خوشحالی کے لئے سفارشات ارسال خدمت کی تھیں کہ وزیراعلی’ محترمہ مریم نواز کے ویژن محفوظ پنجاب کے تحت راجن پور میں گذشتہ چار دہائیوں سے ڈاکو راج کے خاتمہ میں ڈی پی او محمد عمران کی سربراھی میں حکومت پنجاب اور ضلع راجن پور پولیس نے تاریخی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور کچے میں آپ کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے ریاستی رٹ مکمل طور پر قائم ہوئی ہے ویلڈن راجن پور پولیس + سیکورٹی ادارے ڈی پی او محمد عمران کے مطابق کچے کے211 ڈکوؤں نے سرنڈر کردیا 90% ڈاکو سرنڈر آئندہ ھفتہ تک کچے سے ڈاکوؤں کا مکمل صفایا کردیا جائےگاایک کروڑ سر کی قیمت والے 8 ڈاکو ، 50لاکھ روپے والے 4اور 25 لاکھ روپے والے 4 ڈاکو بھی سرنڈر کر چکے ہیں ضلع راجن پور کےکچہ کا 80% علاقہ کلئیر ہوچکا ہے
اب جبکہ شہداۓ پولیس کا لہو رنگ لایا ہے اور کچہ میں امن کے بعد ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع ہوگا میں ضلع راجن پور پولیس نے کچہ میں مستقلا” امن وامان قائم کرنے میں قابل تحسین کردار ادا کیا ہے اور پولیس کے شہداء کی قربانیاں بھی رنگ لائی ہیں ضلع راجن پور سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز اور ضلعی اداروں کے سربراھوں کی کانفرنس بلائی جایے کیونکہ اراکین اسمبلی کا ڈویلپمنٹ فنڈ ہوتاہے اور ترقیاتی سکیمیں بھی انہی کی سفارشات سے بنتی ہیں کچے کے علاقوں میں ترقیاتی سکیمیں بنائی جائیں خصوصا” رابطہ سڑکوں کی تعمیر اولین ترجیح ہونی چاہیے محکمہ صحت "کلنک آن ویل” کی کچے کے علاقوں میں رسائی کو ممکن بنائے تاکہ کچہ کے علاق کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات اور علاج معالجہ کی سہولیات گھر کی دھلیز تک فراھمی ممکن۔ہو سکے ۔ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کچے کے علاقے میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لئے نان فارمل سکولز اور لٹریسی سنٹرز قائم کرے اسی طرح پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن PEF کچے کے علاقے پبلک پارٹنرز کے تحت PEFاور PEEF سکولز قائم کرے کچے کے کے علاقے میں PESR سروے کا سپیشل فالو اپ کرایا جائے تاکہ کچے کے مستحق اور غریب افراد وزیراعلی’پنجاب کی فلاحی اور امدادی پروگرامز (اجتماعی شادیاں ،اپنا گھر ،ھمت اور ھیلتھ اورکسان کارڈز ،تعلیمی وظائف وغیرہ) سے استفادہ حاصل کر سکیں ،نادرا کی موبائل وین کچے کے علاقے میں ھفتہ میں ایک دن ضرور بھیجی جائے تاکہ وہاں کے لوگ شناختی کارڈز باآسانی بنوا سکیں ۔BISP کا کچے کے علاقے میں خصوصی سروے کرایا جائے تاکہ یہاں کی مستحق خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروکرام میں شامل کیا جاسکے اخوت ، خوشحالی سمیت دیگر بنکوں اور سماجی اداروں کی طرف سے کچے میں مائیکرو کریڈٹ سکیمیں شروع کی جائیں اور چھوٹے روزگار اور ھینڈی کرافٹ کے لیے بلاسود قرضے دئے جائیں. گرین الیکٹرک بسوں کا روٹ بھی کچے کے نزدیک علاقوں تک بڑھایا جائے بار کونسلز کی طرف سے کچے کے مستحق افراد کے فری لیگل ایڈ فراھم کی جاۓ،جب تک کچے کی زمین کا قانونی ریکارڈ صاف نہیں ہوگا، بندوق فیصلہ کرتی رہے گی۔
کچہ کے لوگوں کو زمین 50 سالہ لیز پر دے کر انہیں ریکارڈ پہ لایا جائے۔قبائلی دشمنیاں قتلوں کے فیصلے ڈی آئی جی لیول کا افسر کچہ کے مقامی قبائلی عمائدین کی ثالثی میں کرے۔ ۔جو گروہ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالے اور اپنے جرائم کا عدالتی سامنا کرے تو ریاست اس کی مالی مدد، خاندان، زمین اور جانوروں کے تحفظ کی گارنٹی، بے نظیر انکم سپورٹ کی طرز کا*کچہ سپورٹ پروگرام شروع کئے جائیں۔*۔ ماہی گیری، زراعت، لائیوسٹاک ، اگر روزگار ہوگا تو بندوق بوجھ بن جائے گی۔بلاسود قرضوں کی فراہمی۔
پائیدار انفراسٹرکچر ،مستقل اسکول، موبائل صحت مراکز، چھوٹے پل، سڑکیں جو سیلابی تبدیلیاں برداشت کریں یہ علاقوں کو ریاست کے قریب لائیں گے۔علاوازیں ہ شناخت کے بغیر شہری نہیں بنتےاور تعلیم کے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔اس لئے ضروری ہے کہ کچہ کی عوام کو ریکارڈ پہ لایا جائے۔کچہ کو سماجی بحالی کا علاقہ سمجھنا ہوگا۔
گذارش ھے کہ کچہ پاکستان ہے، جنگل نہیں ، فیصلہ ہمیں کرنا ہے کچہ کوئی دور دراز دریائی جنگل نہیں یہ پاکستان کا حصہ ہےیہاں بسنے والے لوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے ہم اور آپ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہےیا تو ہم کچے کو پاکستان بنائیں یا پھر آپریشن پہ آپریشن کرتے رہیں۔اگر آج ہم نے کچے کو نظرانداز کیا اورکچے کےلوگوں کو قومی دھارے میں شامل نہ کیا تو یہ مجرمانہ غفلت ہوگی امید قوی ہے کہ ارباب اختیار میری ان گذارشات پر ضرور ھمدردانہ غور کریں گے کیونکہ کچے کے لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا اب ھم سب کی ذمہ داری ہے
ان حقائق کے پیش نظر گذشتہ روز وزیر اعلی،’ محترمہ مریم نواز نے کچہ کے حوالے سےکچے کے علاقوں کیلئے وزیراعلی’ کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام کا اتاریخی اعلان کیا جو کہ الچمد للہ ! یہ راقم کی سفارشات کی توثیق کا مظہر ہے
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی محنت رنگ لے آئی،کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے پاک،راجن پوراوررحیم یار خان کے جزیرہ نماعلاقے 100% کلیئر ہو چا ہے
راجن پور کے علاقوں سے 342اوررحیم یار خان کے علاقے سے 200ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دئیے،وزیراعلیٰ مریم نواز کا کچے کے علاقوں کیلئے ڈویلپمنٹ کا اعلان کیا کہ
کچہ کے علاقے میں سکول، کالج، ہسپتال اورٹیوٹا کے ادارے قائم کیے جائینگے، بہتر ٹرانسپورٹ کیلئے گرین بس سروس اوردیگر سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ
کچے کے لوگوں کیلئے اپنا کھیت اپنا روز گار کے تحت زرعی اراضی اور کسان کارڈ دینے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ٹیکنیکل ایجوکیشن سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہےچیف منسٹر پروگرام آف کچہ ایریا ڈویلپمنٹ کیلئے سینئر منسٹرمریم اورنگزیب کی سربراہی میں3رکنی اعلی سطح کمیٹی قائم کر دی گئ ہی ، اس کمیٹی میں ہوم سیکرٹری اورایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ شامل ہوں گے
وزیراعلی مریم نوازشریف کی پاک فوج،رینجرز،پنجاب و سندھ پولیس،سی سی ڈی،سپیشل برانچ سمیت تمام اداروں کو مبارکباداورشاباش
دی ہے کہ 6ہفتے کے کچہ آپریشن میں کئی دہائیوں کے بعد رحیم یار خان اورراجن پور کے علاقے مکمل طورپر کلیئر ہوچکے ہیں:مریم نوازشریف
45 دن سے کچے کے علاقے میں اغواء برائے تاوان اورہنی ٹریپ کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی، سرنڈر کرنے والے 500سے زائد ڈاکوؤں میں ہائی پروفائل گینگ لیڈر بھی شامل، انعام بھی مقرر تھا ڈاکوؤں سے جدید ھتھیاروں میں راکٹ لانچر،مشین گنیں، پسٹل،امونیشن،ہینڈ گرنیڈ اوردیگر بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا گیاکچہ کی
ڈاکو ہنی ٹریپ اوردیگر حربوں سے لوگوں کو سہ طرفی باڈر ایریا میں لے جاتے ہیں،گینگ کچے کے علاقے سے آپریٹ کیے جارہے تھے
اللہ کا شکر ہے کہ ریاست کی رٹ بحال ہوئی اورکچہ کا علاقہ ریاست کے پاس آگیا،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چند ہفتوں کے آپریشن کے دوران ہمارے جوان محفوظ رہے،کوئی ڈیتھ نہیں ہوئی جدیدترین آلات،ایڈوانس ٹیکنالوجی اورملٹی ایجنسی کو آرڈینیشن سے کچہ آپریشن کامیاب ہوا،انٹیلی جنس کے اشتراک کار کی وجہ سے کچہ آپریشن میں کامیابی ممکن ہوئی
پہلی مرتبہ پانچ سو سے زائد کریمنلز نے سرنڈر کیا،خون بہائے بغیر کامیاب آپریشن کیا مکمل،30سال کے بعد بی ایم پی میں باقاعدہ بھرتیاں کی گئی اورپہلی مرتبہ53خواتین بھی شامل ہوئیں ڈرؤن ٹیکنالوجی اورنائٹ ویژن کیمروں سے آسمانی انٹیلی جنس کا جال بچھایا گیا،ٹریک کو ٹریس کر کے پکڑا گیا وزیر اعلی’ پنجاب نے سندھ پولیس کا خاص طورپر شکریہ ادا کیا کہ ،سندھ حکومت کے تعاون کے بغیر کچہ آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں تھی
اب ریاست کی رٹ کوبحال رکھنا ہے،کچے کے علاقے کو وہ پیکیج دینا ہے جو پنجاب کے دوسرے علاقوں کوملتاہے
سرنڈر میں مجرمانہ کارروائی نہ کرنے، نوفائرنگ اورپولیس پر حملہ نہ کرنے کاعہد لیا گیا،سرنڈر کرنیوالے ڈاکوؤں کیخلاف قانون کے مطابق فیئر ٹرائل ہوگا کچہ میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے فنی تعلیم کو فروغ دیا جائیگا، کچہ کے علاقے میں ٹیوٹا ادارے قائم کریں گےکچہ کے علاقوں میں خوبصورت سڑکیں اورگرین بسیں چلائیں گئے،کچہ کے لوگوں کو اپنا کھیت،اپنا روزگار کے تحت کھیتی باڑی کیلئے سرکاری اراضی اورکسان کارڈ دینگےکچے کے علاقے میں نئے سکول،کالج اورہسپتال بنائیں گے،کچے میں اضافی مراعات اوربہت بڑا پیکیج اورجاب دیں گےکچے کے لوگوں کی زندگیوں کو ترقی اوروسائل فراہم کرکے بہتر بنائینگے، وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ کچے کے علاقے میں نئے سکول،کالج اورہسپتال بنائیں گے۔کچے میں اضافی مراعات اوربہت بڑا پیکیج اورجاب دیں گے۔کچے کے لوگوں کی زندگیوں کو ترقی اوروسائل فراہم کرکے بہتر بنائیں گے۔ کچہ کے لوگ اپنے صوبے پر فخر کریں گے۔کچہ کے علاقے میں تعینات ہونے والے ڈاکٹرز،ٹیچرز کو سپیشل الاؤنس اورمراعات دی جائیں گی۔ یقینا” چیف منسٹر پروگرام آف کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پر عملدذآمد سی کچے میں امن کے بعد ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع ہوگا



