
ہر بیج میں شوقِ نمو ہے !…..ناصف اعوان
بس جدھر دیکھو یہی کچھ ہو رہا ہے جو بھی دانا اور با اختیار ہے وہ اپنی ذات کو ہی مستحکم کر رہا ہے جبکہ وقت اپنی چالیں چل رہا ہے
جو لوگ خود کو عقل کُل سمجھتے ہیں وہ عام آدمی کی کسی بھی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ اسے کمتر اور احمق تصور کرتے ہیں۔ خلیل جبران کہتا ہے کہ ”ہر بیج میں شوقِ نمو ہے“ مگر ہمارے سیانے عمر کا طویل حصہ گزارنے کے بعد بھی اس حقیقت سے انحراف کرتے ہیں جبکہ انہیں قدم قدم پر ”کم عقلوں“ کی ضرورت ہوتی ہے ان کے بغیر وہ ادھورے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی عقل کُل کو بھوک لگتی ہے تو لازماً وہ کھانا‘ کھانا چاہے گا جسے کسی بیوقوف نے بنایا ہو گا۔ جس گھر میں رہتا ہے وہ بھی کسی گنوار نے تعمیر کیا ہو گا جس سڑک پر بھی وہ سفر کرے گا اسے کسی ”کمتر“ نے ہی بنایا ہو گا اس طرح زندگی کے ہر شعبے میں اسے دوسروں کا محتاج ہونا پڑتا ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ واقعی” ہر بیج میں شوق نمو ہے“ لہذا ہمارے جتنے بھی عقل کُل ہیں وہ کسی طور بھی دوسروں کے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتے ۔ انہیں یقیناً سہاروں کی ضرورت رہتی ہے مل جل کر رہنے ہی سے سفر حیات طے ہوتا ہے مگر بات وہی نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج نہیں تو کل وہ ضرور حقائق کو مان لیں گے کیونکہ ارتقائی عمل جاری ہے جس میں حالت موجود جوں کی توں نہیں رہ سکتی لہذا انہیں اپنی سوچ کو از خود بدل لینا چاہیے تاکہ ان کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکیں مگر دیکھا گیا ہے کہ وہ اب جب منظر حیات ویسا نہیں جو پہلے تھا اپنے سوچنے کا انداز ترک نہیں کر رہے ان کے اس طرز فکر سے سماج میں بسنے والے ان سے دور ہوتے جا رہے ہیں ان کا شعور اب یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ انہیں اپنی آنکھوں میں بسائیں کیونکہ وہ انہیں (عوام) غیر اہم ‘ معمولی اور اُلو باٹے سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرتی نظام کی چُولیں ہل گئی ہیں ایک افراتفری مچی ہوئی ہے آنکھوں کے سامنے دھند سی چھائی ہوئی ہے ۔ جس میں کچھ بھی واضح نہیں مگر جو ”عقلمند“ ہیں انہیں اس کی ذرا پروا نہیں وہ مال و دولت سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ اُلو باٹوں کو مختلف شکنجوں میں جکڑنے کی تدابیر کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ علم ہو چکا ہے کہ وہ شعور کی بڑھتی ہوئی رفتار سے متاثر ہو سکتے ہیں لہذا کیوں نہ اسے پوری طاقت سے روکا جائے تاکہ ان کی حکمرانی اور ان کی تجوریاں محفوظ رہ سکیں مگر یہ ان کی خوش فہمی ہےکہ یہ منظر جس میں آہیں اور سسکیاں ہیں موجود رہے گا ۔
ایسا نہیں ہو سکتا تاریخ بتاتی ہے کہ حالات کبھی یکساں نہیں رہتے کہ کل کے جو حکمران تھے وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ڈھیروں اختیارات کے مالک بے اختیار ہوگئے پھر ایسے بھی تھے جو کسی بیماری کے سبب بستر سے چمٹ گئے مگر ان کی عقل و خرد انہیں نہ بچا سکی وہ آخری دم تک دوسروں کے مرہون منت رہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گھمنڈ اور غرور انسان کو اندر ہی کھا جاتا ہے لہذا اس سے بچنا چاہیے مگر بعض گھمنڈیوں کا خیال ہے کہ انہیں جو لمحات میسر ہیں ان سے بھر پور لطف اٹھایا جائے کسی کی پروا نہیں کی جائے ۔
بس جدھر دیکھو یہی کچھ ہو رہا ہے جو بھی دانا اور با اختیار ہے وہ اپنی ذات کو ہی مستحکم کر رہا ہے جبکہ وقت اپنی چالیں چل رہا ہے جس کے آگے کسی کی چال نہیں چلتی لہذا ہم اپنے کرم فرماؤں سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ان کمزوروں بے بسوں اور لا چاروں کو دھتکار یں نہیں وہ اگر خاموش ہیں اور سہمے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ جنہیں اذیتوں کو سہنا پڑا ہے غربت کی چکی میں پسنا پڑا ہے اور سر جھکا کے جینا پڑا ہے وہ کسی آتش فشاں کی مانند ابل پڑیں گے پھر وہ لاوہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اسے کس سمت بہنا ہے وہ سب کو اپنی لپیٹ لے‘ لے گا لہذا انہیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ یہاں سے کوچ کر جائیں گے کسی دوسرے دیس میں جا بسیں گے تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کی مت ماری گئی ہے ۔ وہ جہاں بھی جائیں گے سکون قلب سے محروم رہیں گے ۔
ہم کسی کا نام نہیں لیتے جس جس نے بھی لوگوں کی تحقیر کی انہیں اچھوت جانا ان سے نفرت کرتے ہوئے تحکمانہ لہجے اختیار کیے وہ جہاں بھی گئے ایک داستان چھوڑ آئے ۔ تنگ آئے لوگوں نے ان کی وہ ”خاطر تواضع“ کی کہ انہیں کبھی بھول نہیں پائیں گے ۔ اس کے باوجود لوگوں کے مزاج کا اندازہ نہیں لگایا جا رہا ۔ اب وہ سادہ لوح لوگ نہیں کہ جو اہل اختیار کہیں گے اور جو بھی سلوک روا رکھیں گے اسے برداشت کر لیں گے ۔یہ صدی تبدیلیوں کی صدی ہے عوام کہیں کے بھی ہوں سب کےسب مضطرب دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ بیدار ہو چکے ہیں اس سفاک نظام سے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور عقل مند“ جو مٹھی بھر ہیں کی عوام بیزاری کا ادراک ہو چکا ہے کہ کس طرح انہوں نے اربوں انسانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور آپس میں اکٹھے بیٹھ کر عوام کو دبانے اور بیوقوف بنانے کے گُر بتاتے ہیں انہیں کسی کی تنگدستی و مفلوک الحالی سے کوئی غرض نہیں مگر اب پوری دنیا میں جاگو اور جگاؤ تحریک ابھر چکی ہے لہذا اب حقیقت آشنا ہوا جائے ۔ایک حد ہوتی ہے اُلو بنانے کی اب وہ حد ختم ہو چکی ہے شعور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہر ملک ہر ریاست تبدیلیوں کی زد میں ہے شاید اسی لیے اہل ”خرد“ کے لہجے بدل گئے ہیں اوران چند فیصد نے ہاتھوں میں ڈانگ پکڑ لی ہے ہنٹر اٹھا لئے ہیں کہ جو بولے اس کی پشت لال کر دی جائے ۔اس کے علاوہ جہاں کہیں ضرورت محسوس کی جائے وہاں جنگ چھیڑ دی جائے ۔دیکھ لیں ڈونلڈ ٹرمپ جو ایک سرمایہ دار ہے اور کاروباری ہے امن کی بات کرکے مُکر گیا ہے اب وہ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے ہر کسی کو دھمکیاں دے رہا ہےکیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ عقل مند ہے با اختیار ہے مگر دنیا کی کثیر تعداد اس کو تسلیم نہیں کرتی وہ اسے سینہ زور کہتی ہے جو جدھر چاہتا ہے چل پڑتا ہے ۔
بہر حال عقل کا تقاضا یہی ہے کہ بدلتی رُت کو محسوس کیا جائے کیونکہ چار دن کی چاندنی مستقل نہیں ہوتی اس کے بعد اندھیرا ہوتا ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ہی ماری جاتی ہیں ۔ یہ عمل زندگی کو خوشبودار و خوشگوار نہیں بنا سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ محبت کو عام کیا جائے مجبوروں کی آہوں پر کان دھرے جائیں ان کے وجود کی نفی نہ کی جائے کیونکہ ساری رونقیں ان کےہی دم سے ہیں !



