انٹرٹینمینٹ

80 سال بعد لاہور کے ایچیسن کالج کے گوردوارہ میں عبادت کا انعقاد

سنہ 1947 کے بعد، جب سکھ طلباء کی کمی کی وجہ سے گوردوارہ بند ہو گیا تھا، تب سے یہ عبادت کا مرکز نہیں رہا تھا

سید عاطف ندیم-پاکستان وی او جی

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مال روڈ پر واقع ایچیسن کالج کے کیمپس میں واقع گوردوارہ میں 80 سال بعد ایک تاریخی عبادت کا انعقاد کیا گیا، جس نے جذباتی مناظرات کو جنم دیا اور سکھ کمیونٹی کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا۔ یہ عبادت ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی، جس میں سکھ کمیونٹی کے افراد اور کالج کے افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تاریخی عبادت: جذباتی لمحے اور یادگار لمحے

ایچیسن کالج کے اعزازی سفیر ڈاکٹر ترنجیت سنگھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 80 سال بعد گوردوارہ میں عبادت کا انعقاد ایک تاریخی لمحہ تھا، جس کے دوران جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ ڈاکٹر ترنجیت سنگھ نے بیان میں مزید کہا کہ "سنہ 1947 کے بعد، جب سکھ طلباء کی کمی کی وجہ سے گوردوارہ بند ہو گیا تھا، تب سے یہ عبادت کا مرکز نہیں رہا تھا۔ تاہم، ایچیسن کالج نے اس کا خیال رکھا اور اس تاریخی عبادت کا انعقاد کالج کی 140ویں سالگرہ کے موقع پر کیا۔”

گوردوارہ کا تاریخی پس منظر

ایچیسن کالج کا سنگ بنیاد 3 نومبر 1886 کو غیرمنقسم پنجاب کے شاہی خاندانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے مقصد کے تحت رکھا گیا تھا۔ ایچیسن کالج کے گوردوارہ کا تعمیری سفر ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے اور اس کی تعمیر میں سکھ کمیونٹی کی محنت اور مالی تعاون شامل ہے۔ گوردوارہ کا ڈیزائن مشہور سکھ معمار رام سنگھ نے کیا تھا، جو اُس وقت کے میو سکول آف آرٹس (اب نیشنل کالج آف آرٹس) کے اہم معمار تھے۔

گوردوارہ کی تعمیر اور وقف

گوردوارہ کی عمارت کا سنگ بنیاد 1910 میں پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے رکھا تھا۔ مہاراجہ بھوپندر سنگھ، جو خود 1904 سے 1908 تک ایچیسن کالج میں تعلیم حاصل کر چکے تھے، نے اس گوردوارہ کی تعمیر کے لیے شاہی خاندان سے مالی امداد جمع کی تھی۔ ان کی قیادت میں پٹیالہ کے شاہی خاندان نے اس اہم عمارت کی تعمیر کی اور اس گوردوارہ کو سکھ طلباء کے لیے وقف کیا، جہاں وہ روزانہ شام کی عبادت میں شریک ہوتے تھے۔ گوردوارہ کا مقصد نہ صرف ایک عبادت گاہ تھا بلکہ یہ سکھ کمیونٹی کے لیے ایک روحانی مرکز اور سکون کا مقام بھی تھا۔

1947 کے بعد گوردوارہ کی بندش

پاکستان کے قیام کے بعد 1947 میں جب سکھ طلباء کی تعداد میں کمی واقع ہوئی اور ایچیسن کالج میں سکھ طلباء کی تعداد کم ہو گئی، تو گوردوارہ کی عبادتیں بھی بند ہو گئیں۔ 1947 کے بعد کا دور گوردوارہ کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ثابت ہوا، جب اس کا استعمال کم ہو گیا اور وہ ایک ویران عبادت گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ تاہم، ایچیسن کالج کی انتظامیہ نے اس تاریخی ورثے کا خیال رکھا اور اس گوردوارہ کی حالت کو برقرار رکھا، جس کے باعث اس کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھا جا سکا۔

140ویں سالگرہ کی مناسبت سے عبادت کا انعقاد

ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ کے موقع پر گوردوارہ میں دوبارہ عبادت کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف کمیونٹی کے افراد، سکھ رہنما، کالج کے افسران اور طلباء نے عبادت میں شرکت کی۔ اس تاریخی عبادت میں شریک افراد نے نہ صرف مذہبی رسومات ادا کیں بلکہ اس موقع پر جذباتی طور پر اس لمحے کو یاد کیا جب گوردوارہ کی عبادت 80 سال کے بعد دوبارہ شروع ہوئی۔

کالج اور گوردوارہ کے تعلقات کا اعتراف

ایچیسن کالج کی تاریخ میں گوردوارہ کا ایک اہم مقام رہا ہے اور کالج کی انتظامیہ ہمیشہ اس کے مذہبی اور تاریخی اہمیت کا اعتراف کرتی رہی ہے۔ ایچیسن کالج کی 140ویں سالگرہ کے موقع پر گوردوارہ میں عبادت کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ کالج نے سکھ کمیونٹی کی ثقافت اور تاریخ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور اسے محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کی۔ کالج کے اس اقدام کو سکھ کمیونٹی نے بھرپور سراہا اور اس موقع پر تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا۔

گوردوارہ کی دوبارہ عبادت کا آغاز: سکھ کمیونٹی کے لیے ایک نیا باب

گوردوارہ میں 80 سال بعد عبادت کا انعقاد نہ صرف سکھ کمیونٹی کے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا بلکہ یہ دونوں مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کا ایک مظہر بھی تھا۔ اس موقع پر ایچیسن کالج کی انتظامیہ نے کہا کہ گوردوارہ کی عبادت گاہ میں عبادت کا آغاز ایک اہم قدم ہے جو مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور ایک دوسرے کے احترام کے پیغام کو اجاگر کرتا ہے۔

خلاصہ: ایچیسن کالج کی 140 سالہ تاریخ اور گوردوارہ کا تعلق

ایچیسن کالج کے گوردوارہ کا دوبارہ عبادت کے لیے کھلنا اس کالج کی طویل اور متنوع تاریخ کی ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ اس تاریخی عبادت کی تقریب نے نہ صرف سکھ کمیونٹی کی مذہبی ضروریات کو پورا کیا بلکہ اس بات کو بھی ثابت کیا کہ ایچیسن کالج نے اپنے ادارہ جاتی ورثے کو ہمیشہ اپنی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ جوڑ کر رکھا ہے۔ اس تقریب نے لاہور کے ثقافتی اور مذہبی تنوع کو مزید اجاگر کیا اور ایک نیا باب لکھا، جہاں مختلف عقائد کے لوگ مل کر اس تاریخی ورثے کا حصہ بنے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button