
اے پی
سوئٹزرلینڈ میں منگل اور بدھ کو ہونے والے ان مذاکرات سے جنگ کے خاتمے میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا رہی کیونکہ دونوں فریق اہم معاملات پر اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ نے جون تک کسی معاہدے تک پہنچنے کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم روس کے زیر قبضہ یا زیرِ نظر یوکرینی علاقوں کا مستقبل مرکزی تنازع بنا ہوا ہے۔

تقریباً 1,250 کلومیٹر طویل محاذ پر یوکرینی افواج روس کی بڑی فوج کے خلاف طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب روسی فضائی حملوں سے یوکرینی شہری مسلسل متاثر ہو رہے ہیں، جن میں بجلی کی تنصیبات اور رہائشی عمارتیں نشانہ بن رہی ہیں۔ یوکرین نے بھی ایسے ڈرون تیار کیے ہیں جو روس کے اندر گہرائی تک جا کر آئل ریفائنریوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ جنیوا مذاکرات میں ”علاقوں اور دیگر مطالبات سے متعلق وسیع امور‘‘ زیر بحث آئیں گے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایک سال کی سفارتی کوششوں کے باوجود یوکرین میں چار سالوں سے جاری لڑائی ابھی رکی نہیں۔ مغربی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا خیال ہے کہ وقت ان کے حق میں ہے، مغربی حمایت کمزور پڑ جائے گی اور یوکرین بالآخر دباؤ میں آ جائے گا۔
یوکرینی صدر ولوودیمیر زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف جنرل کیریلو بودانوف نے ٹیلیگرام پر ایک تصویر جاری کی جس میں وہ مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان کے ساتھ ایک ٹرین کے قریب کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ جنیوا میں یوکرینی وفد کی قیادت قومی سلامتی و دفاع کونسل کے سربراہ رستم عمروف کریں گے۔

جنگ کے باعث یوکرین کی فضائی حدود بند ہیں اس لیے اعلیٰ حکام کو بھی ملک میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے طویل زمینی سفر کرنا پڑتا ہے۔
روس کی جانب سے وفد کی قیادت صدر پوٹن کے مشیر ولادیمیر میڈنسکی کریں گے، جو مارچ 2022 میں استنبول میں ہونے والے براہِ راست امن مذاکرات میں بھی روسی ٹیم کے سربراہ تھے اور پوٹن کے جنگی اہداف کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ روسی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایگور کوستییوکوف اور نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزن بھی وفد میں شامل ہوں گے۔
امریکی وفد کے ارکان کے بارے میں تاحال واضح نہیں کیا گیا تاہم حالیہ ابوظہبی مذاکرات میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ٹرمپ انتظامیہ کی نمائندگی کی تھی۔ روس اور یوکرین کے وفود جنیوا میں ممکنہ سمجھوتوں پر بات چیت کے بعد اپنے اپنے رہنماؤں کو رپورٹ پیش کریں گے، جس کے بعد ہی کسی پیش رفت کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔



