
سید عاطف ندیم پاکستان سے آئی ایس پی آر کے ساتھ
صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 11 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ ایک کمسن بچی جاں بحق ہو گئی۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 حملہ آور بھی مارے گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
حملے کی نوعیت اور ابتدائی جھڑپ
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سوموار کی شام شدت پسندوں نے لوے ماموند کے علاقے میں قائم ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کے ذریعے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم تعینات اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پیش قدمی ناکام بنا دی۔
بیان کے مطابق جھڑپ کے دوران 12 شدت پسند مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کیا۔
بارود سے بھری گاڑی کا دھماکہ
ابتدائی ناکامی کے بعد حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ دو منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور ملبہ دور تک پھیل گیا۔ مقامی افراد کے مطابق عمارت ماضی میں ایک دینی مدرسے کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی تھی۔
دھماکے کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہداء کی لاشوں کو بعد ازاں فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی علاقوں میں روانہ کیا گیا۔
شہری آبادی متاثر
آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے سے قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ایک کمسن بچی جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت سات شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
عینی شاہدین کیا کہتے ہیں؟
ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
“ہم جب ملبے تلے سے لوگوں کو نکال رہے تھے، اُس وقت بھی چیک پوسٹ پر فائرنگ ہو رہی تھی۔ اہلکار مسلسل جوابی کارروائی کر رہے تھے۔ جب ایمبولینسوں میں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اُس وقت بھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں۔”
ان کے مطابق عشا کی نماز کے بعد اچانک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی جس سے قریبی گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں لرز اٹھیں۔
“یوں لگا جیسے دھماکہ ہمارے گھر کے پاس ہی ہوا ہو۔ علاقے کے تقریباً ہر گھر میں یہی کیفیت تھی۔”
مقامی لوگوں کے مطابق مساجد سے اعلانات کر کے لوگوں کو ریسکیو سرگرمیوں میں مدد کے لیے بلایا گیا۔ رات گئے تک ملبے سے لاشیں اور زخمی نکالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ابتدائی طور پر چھ لاشیں رات کے وقت نکالی گئیں۔
علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ
واقعے کے بعد لوے ماموند اور گرد و نواح کے علاقوں کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ منگل کی صبح علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں، جس کے بعد لاشوں اور زخمیوں کی منتقلی مکمل کی گئی۔
تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
سرکاری ردعمل اور عزم
اعلیٰ حکام نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔
حکام کے مطابق علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی سہولت کار یا فرار ہونے والے شدت پسند کو گرفتار کیا جا سکے۔
خوف اور بے یقینی کی فضا
واقعے کے بعد ضلع باجوڑ میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی اقدامات سخت کیے گئے تھے، تاہم اس نوعیت کے حملے نے ایک بار پھر علاقے کے امن و امان سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
باجوڑ کے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ حملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سرحدی اضلاع میں سکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری سرچ آپریشن اور سخت حفاظتی اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خطرے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔




