پاکستاناہم خبریں

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور جرمن سفیر اینا لیپل کی ملاقات: انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور قانونی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال

پاکستان کی جانب سے سزائے موت سے متعلق قانون میں نرمی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے ہم آہنگی کی جانب مثبت پیش رفت ہے,جرمن سفیر

سید عاطف ندیم پاکستان سے جرمن ایمبیسی کے ساتھ

وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے وزارتِ قانون میں اہم ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، انسانی حقوق کے فروغ، اقلیتوں کے تحفظ، جیل اصلاحات اور حالیہ قانونی اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان انسانی حقوق کے شعبے میں جاری تعاون کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قانونی اصلاحات اور سزائے موت سے متعلق ترامیم

ملاقات کے دوران وزیر قانون نے پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت قانونی نظام کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعزیراتِ پاکستان میں بعض جرائم کے لیے سزائے موت کی جگہ عمر قید کی سزا مقرر کرنے کی ترامیم ایک اہم قدم ہیں، جن کا مقصد فوجداری نظام میں توازن پیدا کرنا اور انسانی وقار کے اصولوں کو تقویت دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات نہ صرف انصاف کی فراہمی کے عمل کو زیادہ شفاف بنائیں گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے قانونی تشخص کو بھی مضبوط کریں گی۔ وزیر قانون کے مطابق، حکومت اصلاحاتی عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھا رہی ہے تاکہ نظامِ انصاف میں بہتری لائی جا سکے۔

جرمن سفیر اینا لیپل نے ان قانونی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سزائے موت سے متعلق قانون میں نرمی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے ہم آہنگی کی جانب مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحی انصاف کا تصور جدید قانونی نظاموں کا بنیادی جزو ہے اور پاکستان کی یہ کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ

ملاقات میں مذہبی و نسلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی اور پالیسی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے عبادت گاہوں کے تحفظ، جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام اور تعلیمی و معاشی مواقع کی فراہمی کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

جرمن سفیر نے اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک متنوع معاشرے میں ہم آہنگی اور برداشت کا فروغ پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔

جیل اصلاحات اور قیدیوں کے حقوق

جیل اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون نے بتایا کہ حکومت قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، جیلوں میں سہولیات کی بہتری، ہجوم میں کمی، اور زیرِ سماعت مقدمات کے جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاونت کی فراہمی اور اصلاحی پروگرامز کے ذریعے قیدیوں کی بحالی اور سماجی انضمام کو ممکن بنایا جا رہا ہے تاکہ رہائی کے بعد وہ معاشرے کا مثبت حصہ بن سکیں۔

جرمن سفیر نے جیل اصلاحات کو انسانی حقوق کے فروغ کا اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحی نظام کی مضبوطی معاشرتی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

صحافیوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کمشنز کی خودمختاری

ملاقات میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے قومی کمیشن کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی۔ جرمن سفیر نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد اور محفوظ میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اس کے علاوہ قومی انسانی حقوق کمشنز کی خودمختاری اور مؤثر کردار کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن سفیر نے پاکستان کی جانب سے اداروں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی تحسین کی اور کہا کہ بااختیار اور آزاد ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔

دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان انسانی حقوق، قانونی اصلاحات، انصاف کی فراہمی اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس ضمن میں تکنیکی معاونت، ماہرین کے تبادلے، تربیتی پروگرامز اور مشترکہ ورکشاپس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان اور جرمنی کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی بلکہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button